خطبات محمود (جلد 8) — Page 162
162 29 مومن کو دین کے کام کس طرح کرنے چاہئیں (فرموده ۷ار اگست ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔آج میں ایک اہم معاملہ کے متعلق اپنے دوستوں کو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔گو بہ سبب کھانسی کی تکلیف کے میں ڈرتا ہوں کہ اس خوش اسلوبی سے مضمون کو ادا نہ کر سکوں گا جو اس کا حق ہے۔تا ہم میں حتی الوسع کوشش کرونگا کہ ایسے رنگ میں ادا کروں کہ سب دوست اچھی طرح سمجھ سکیں۔وہ مضمون جس کے متعلق میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور جسے لوگوں کے ذہن میں اچھی طرح داخل کرنا چاہتا ہوں کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ مومن کو دین کے کام کس طرح کرنے چاہئیں۔جب تک کوئی اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتا۔جب تک کوئی انسان اپنے فرائض سے آگاہ نہیں ہوتا۔جب تک کوئی انسان کسی چیز کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتا۔اس وقت تک اس کام میں نہ تو کامیابی ہو سکتی ہے نہ برکت ہوتی ہے۔در حقیقت تمام کامیابیاں فرائض کی ادائیگیاں حقیقت پر آگاہی اور فرائض کے سمجھنے پر منحصر ہوتی ہیں۔ایک نہایت فہیم اور ہوشیار انسان کو اگر ایسے کام پر لگا دیا جائے جس کی حقیقت ، جس کی ماہیت، جس کے فرائض اور جس کی ذمہ داریوں سے وہ آگاہ نہ ہو تو کبھی اچھی طرح اسے نہ کر سکے گا۔لیکن اگر ایک جاہل اور کم عقل انسان کو ایسے کام پر لگا دیا جائے جس کی حقیقت اور ذمہ داریوں سے وہ آگاہ ہو تو وہ اسے اچھی طرح کر سکے گا۔دنیا میں بہت سے لوگ ہوشیار ہوتے ہیں وہ جب کسی بات کو سمجھ لیں تو عمدگی سے اسے حاصل کر لیتے ہیں۔مگر دنیا کے کاموں میں عموما" نامراد رہتے ہیں اور بعض ایسے آدمی ہوتے ہیں جنہیں لوگ بیوقوف اور اُلو کہتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ روز بروز ترقی کرتے جاتے ہیں۔مثلاً اگر گورنمنٹ کے ملازم ہوں تو ہر سال ان کے عہدہ اور تنخواہ میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔کہنے والے انہیں الو اور احمق کہتے رہتے ہیں۔مگر به نسبت عقل مندوں کے وہ اتو بڑھتے رہتے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے۔اگر کوئی شخص سچائی کے ساتھ غور کرے اور دونوں کی حالت کا موازنہ کرے تو واقعہ میں وہ عقلمند ہوتے ہیں اور دوسرے واقعہ میں اُتو ہی ہوتے ہیں۔مگر ایسے موقع پر پھر یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی اپنی قسمت حالا نکہ خدا تعالی