خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 14

14 خدمت دین کے معاملہ میں ایثار نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا تعالٰی کے انعام کو محدود سمجھے۔مثلاً دیکھو۔اگر پانی کا ایک گلاس ہو اور ایک شخص کہے کہ میں نہیں پیتا۔دوسرا پیئے تو یہ ایثار ہو گا۔لیکن اگر چشمے کے کنارے پر بیٹھ کر ایک شخص کہتا ہے کہ میں پانی نہیں پیتا۔دوسرا پئے تو یہ ایثار نہیں ہو گا۔بلکہ نہ پینے والے کا خواہ مخواہ پیاسا مرنا ہو گا۔تو خدا تعالی کے انعامات کے لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میں نہیں لیتا۔میرا بیٹا لے لے گا۔پس دینی معاملہ میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر ہم نہ کریں گے تو آئندہ آنے والے کرلیں گے بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کریں اگلوں کے لئے کام کی کمی نہیں ہوگی بلکہ ان کے لئے بھی بہت کام ہو گا اور جب کام نہ ہوگا تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ گویا خدا تعالی اس دنیا کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اسی دن قیامت ہوگی۔میں نے یہ نصیحت بارہا کی ہے۔مگر آج خاص طور پر اس طرف توجہ دلاتا ہوں، وجہ یہ ہے کہ کام کرنے کے بعض خاص اوقات ہوتے ہیں۔دیکھو لوہار روز لوہے کو کو تا ہے مگر لو ہے میں تغیر اسی وقت آتا ہے جبکہ وہ گرم ہو کر نرم ہوتا ہے۔اس وقت کا ایک ہتھوڑا دوسرے وقت کے سو ہتھوڑوں کے برابر ہوتا ہے۔سرد لو ہے پر مارنے سے کچھ نہیں بنتا لیکن گرم لوہے کو کمزور ہاتھ سے کوٹا جائے تو بھی چپٹا ہو جاتا ہے۔یہی حال زمانہ کا ہوتا ہے۔یہ کبھی گرم ہوتا ہے اور کبھی سرد۔اس زمانہ میں میں دیکھتا ہوں (کیونکہ چاروں طرف سے میرے پاس خطوط آتے ہیں اور اور ذرائع سے بھی علم ہوتا رہتا ہے) کہ تمام ہندوستان میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کہیں سے حق مل جائے تو لے لیں۔کئی سال سے لوگوں کی جمود کی حالت تھی۔پھر سیاست کی طرف لوگوں کی بہت توجہ تھی اور اس کے لئے بڑا جوش پیدا ہو گیا تھا۔لیکن یہی جوش جب بیٹھا ہے تو اس نے خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کی توجہ کر دی ہے۔عام خطوط آرہے ہیں کہ پہلے لوگ ہماری باتیں نہیں سنتے تھے۔مگر اب خود پوچھتے ہیں ان میں تڑپ پائی جاتی ہے۔اس لئے معلوم ہوا کہ اب لوہا محرم ہے اور تم کو جو خدا کی ورکشاپ میں ملازم ہو۔میں کہتا ہوں کہ یہی وقت ہے اس لوہے کو کوٹے کا۔پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ خصوصیت سے ان دنوں تبلیغ کی طرف توجہ کی جائے۔لوگوں میں سیاست سے ٹھوکر کھا کر اور مسٹر گاندھی کے عظیم الشان وعدوں کو ہوائی قلعہ دیکھ کر مایوسی ہو چکی ہے اور اب ان کی توجہ اس طرح پھری ہے کہ کوئی اور راستہ ہونا چاہئیے جس سے ہم کامیاب ہوں اور عام طور پر لوگوں کا میلان احمدیت کی طرف ہو رہا ہے۔پہلے لوگ کہتے تھے اور یہاں کے لوگوں نے بھی کہا کہ کیوں سیاسی معاملات میں اپنی رائے ظاہر کی جاتی ہے مگر دوسرے لوگوں نے محسوس کر لیا ہے کہ اگر اس زمانہ میں عقل اور دانش سے کوئی آواز نکلی ہے تو قادیان سے ہی نکلی ہے۔پہلے تو انہوں نے ہمیں جاہل، منافق اور خوشامدی وغیرہ کہا۔مگر آخر دیکھ لیا کہ جو بات ہم نے کہی دینی کچی نکلی۔اس