خطبات محمود (جلد 8) — Page 13
حد مقرر ہے۔اور اس ہستی کی حکمت کا تقاضا ہے کہ یہ کام اتنے عرصہ میں ہو۔پس خدا تعالی کا بہ نشاء ضرور پورا ہو گا۔سوال اگر ہمارے لئے کوئی ہے تو یہ کہ کس کے ہاتھ سے پورا ہوگا۔دیکھو اگر ایک آدمی ڈوب رہا ہو۔اور اس کو نکالنے کے لئے پچاس تیراک دوڑ پڑیں تو اس میں شبہ نہیں کہ وہ شخص جو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔قابل تعریف ہے۔مگر جس کے ہاتھ سے ڈوبنے والا بچے گا۔اس کی جو تعریف ہوگی۔وہ اور کسی کی نہیں ہوگی۔جس کا ہاتھ ڈوبنے والے پر پڑے گا اس کا ہاتھ پڑنے کو اتفاق کہہ لو۔یا اس کا ہنر کہہ لو۔یا اس کی کوشش کہہ لو۔یا اس کا فن کہہ لو۔مگر دنیا اسی کی تعریف کرے گی۔پھر اس کی بھی کوئی تعریف نہ ہوگی جو باہر کنارے پر کھڑا رہا۔ڈوبنے والا تو نکل آیا۔مگر جو تیراک کو دے تھے۔ان کے نقطہ نظر سے اہم سوال کیا تھا۔یہ نہیں تھا کہ ڈوبنے والا نکل آئے بلکہ یہ تھا کہ کون نکالے۔دیکھو انگریز سرحد پر فوجیں بھیجتے ہیں اور سرحدیوں پر حملہ کرتے ہیں۔ان کی قوت اور طاقت کے لحاظ سے ہم جانتے ہیں کہ سرحدی سردار ایک ڈاکو سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔پہاڑی علاقہ کی وجہ سے لٹیروں کی گرفتاری میں دیر لگ جاتی ہے۔مگر آخر پکڑ لیتے ہیں۔ان لٹیروں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک گاؤں کا چوہڑا نمبردار کے ہاں چوری کر کے بھاگ جائے اور نمبردار پکڑ نہ سکے یہی حالت سرحدی ڈاکوؤں کی ہوتی ہے۔ڈا کو جلدی پکڑا نہیں جاتا۔جس کی وجہ عدم علم ہوتا ہے۔مگر بہر حال یقین ہوتا ہے کہ اگر آج نہیں تو کل پکڑا جائے گا۔چنانچہ پکڑ لیتے ہیں۔اب فوجی جو اس کام کے لئے مقرر ہوتے ہیں۔ان کے نقطہ نگاہ سے یہ سوال اہم نہیں ہوتا کہ گورنمنٹ پکڑ لے گی بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کون پکڑے گا اور جو پکڑتا ہے اسے انعام ملتا ہے اور عہدہ میں ترقی ہو جاتی ہے۔اسی طرح منشاء الہی کے پور ہونے کے متعلق سوال یہ نہیں کہ پورا ہوگا یا نہیں۔ہوگا اور ضرور ہو گا۔اور کون ہے جو اسے روک سکے۔اگر کہو دیر لگی تو میں بتا چکا ہوں کہ دیر لگتی ہے اور دیر کا لگتا ضروری ہے۔پس اگر سوال ہے تو یہ ہے کہ وہ کون خوش قسمت ہو گا جس کے ہاتھ پر خدا کا ارادہ اور منشاء پورا ہوگا۔ہماری دوڑ اور کوشش اس لئے نہیں کہ خدا کا منشاء پورا ہو جائے بلکہ اس لئے ہے کہ ہمارے ہاتھ پر پورا ہو یہی سب سے اہم اور ضروری سوال ہے ہمارے لئے۔اس لئے میں نے پہلے بھی بارہا دوستوں کو توجہ دلائی ہے اور اب بھی دلاتا ہوں کہ تم یہ بات مد نظر رکھو کہ یہ کام کس کے ہاتھ سے ہوتا ہے۔آئندہ خواہ ہماری ہی اولاد کے ذریعہ ہو۔مگر دین میں ماں باپ اور اولاد کا سوال بھی نہیں ہو سکتا کہ اچھا ہمارے ہاتھوں یہ کام نہیں ہوا تو نہ سہی۔ہماری اولاد کے ذریعہ ہو جائے گا۔بلکہ ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ میرے ہاتھ سے ہو۔اسے خود غرضی کہو یا کچھ اور مگر ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ میں کیوں محروم رہوں خدا تعالیٰ کے انعام محدود نہیں۔اگر بڑے سے بڑا انعام بھی حاصل ہو جائے تو پھر بھی دوسروں کو مل سکتا ہے۔اس لئے