خطبات محمود (جلد 8) — Page 15
15 طرح بھی ان لوگوں کے دلوں میں ادب پیدا ہو گیا ہے۔جب سارے لوگ ہمیں جاہل کہتے تھے۔اس وقت ہم نے جو رائے ظاہر کی وہی درست اور صحیح رائے تھی۔اس سے لوگوں کے دلوں میں ادب پیدا ہو گیا اور وہ چاہتے ہیں کہ ہماری باتیں سنیں۔پس یہ ایک روچلی ہے کہ غیر احمدی اور دوسرے لوگ بھی ہماری باتوں کو سننا چاہتے ہیں۔اس وقت کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئیے اور اپنی کو شش کو اتنا بڑھا دینا چاہیے جتنا انسانی حد کے لئے ممکن ہے۔یہ نصیحت میں یہاں کے لوگوں کو بھی کرتا ہوں اور باہر کے لوگوں کو بھی کہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔خدا تعالٰی نے ملائکہ کے ذریعہ بھٹی گرم کر کے لوگوں کے دلوں کو ہلا دیا ہے۔اس وقت بھی اگر ہم یونسی بیٹھے رہے تو سخت بد نصیبی ہوگی۔دیکھو پچھلے تین سالوں میں ہندوستان میں جو کچھ ہوا۔کیا وہ معمولی بات تھی۔ہرگز نہیں۔اس مل چل میں ہزاروں نے گھر بار کو چھوڑ کر ہجرت کی۔کئی گھر برباد ہو گئے۔بہت سے لوگ جیلوں میں گئے یہ دراصل لوہا گرم ہو رہا تھا اگر اب بھی ہم یونی بیٹھے رہے تو ہم پر خدا تعالی کی سخت ناراضگی ہوگی۔پس اپنے نفوس میں تغیر پیدا کرو اور جہاں جہاں ہماری جماعت کے لوگ ہیں وہ اپنا فرض سمجھیں کہ اس سال خصوصیت سے تبلیغ کرنی ہے۔یاد رکھو! میں یہ تو نہیں کہتا کہ دو تین چار مہینے خصوصیت سے تبلیغ کرو۔مگر میں یہ کہتا ہوں کہ سارا سال تبلیغ کرو۔مجھے آثار نظر آرہے ہیں اور وہ دن قریب ہیں کہ جو لوگ ہم پر ہنتے تھے وہ اذا جاء نصر الله والفتح ورايت الناس يدخلون في دين الله الواجا (النصر ۲-۳) کا نظارہ دیکھ لیں گے۔قلوب میں ایسا تغیر ہوتا معلوم ہو رہا ہے کہ میرا دل محسوس کرتا ہے کہ افواجا افواجا داخل ہونے کا زمانہ قریب آگیا ہے۔پچھلے دو تین سال ایسے گزرے ہیں کہ بعض لوگوں کے دلوں میں مایوسی پیدا ہو گئی تھی کہ کیا ہو گا۔لیکن جس طرح دریا کے پانی کے آگے روک آجانے سے اگر پانی رک جائے تو ایک دن یک لخت پانی اس روک کو ہٹا کر پھینک دیتا ہے اور سیلاب آجاتا ہے۔وہی حالت تبلیغ کی اب نظر آتی ہے۔اب تم ضرب پر ضرب مارو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو چیز تم بنانا چاہتے ہو بن جائے گی۔پس ان دنوں کو رائیگاں نہ جانے دو۔ایسے مواقع بہت کم ملتے ہیں اور جب ملتے ہیں تو ان میں کام کرنے سے عظیم الشان تغیر پیدا ہو جاتے ہیں۔دیکھو جب خدا نبی کو بھیجتا ہے تو اس لئے نہیں کہ لوگ کفر کریں اور اس کا انکار کریں بلکہ اس لئے کہ لوگ مانیں۔پس خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ لوگ احمدیت قبول کریں۔مگر جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے لوگوں کے قبول کرنے میں جو دیر لگی ہے وہ خدا کی حکمت کے ماتحت ہے۔اور اس لئے کہ جو پہلے ایمان لائے ہیں ان کے ذریعہ قبول کریں اور اس طرح ہمارے لئے ثواب کے سامان بہم پہنچائے۔پس ہمارے ثواب کے لئے خدا ایسا کر رہا ہے ورنہ خدا تعالیٰ تو دیوار سے بھی ہدایت دے سکتا ہے۔یونہی کسی کو خواب