خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 129

129 24 حقیقی خیر خواہ خدا ہی ہے (فرموده ۱۳ جولائی ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔دنیا میں خیر خواہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو ایسے ہوتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جس سے ہمیں محبت ہے اس کا بھلا ہو لیکن ان کے کاموں سے ہمیشہ اس کو نقصان پہنچتا ہے جس سے ان کو محبت ہوتی ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب کی عارضی تکلیف برداشت نہیں کرتے اس وجہ سے وہ اپنے پیاروں کا نقصان ہی کرتے ہیں۔اسی وجہ سے لوگوں نے کہا ہے کہ دانا دشمن نادان دوست سے بہتر ہے۔کیونکہ دانا دشمن سمجھ کر نقصان پہنچاتا ہے اور اسے اپنی بدنامی کا خطرہ ہوتا ہے لیکن نادان دوست کو کسی احتیاط کا خیال نہیں ہو تا۔نہ وہ لوگوں کی ملامت سے ڈرتا ہے اور نہ اسے یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کی بدنامی ہوگی یا اسے کوئی نقصان پہنچے گا تو ایسا انسان اپنے پیاروں کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔دنیا میں ماں باپ اپنی اولاد کے کیسے خیر خواہ ہوتے ہیں لیکن وہ بھی اپنی اولاد کو بگاڑ دیتے ہیں۔مثلاً مدرسہ میں اگر استاد نے لڑکے کو مارا ہے تو اس عارضی تکلیف کا خیال کر کے مدرسہ سے اٹھا لیتے ہیں۔یہ الگ سوال ہے کہ استاد کا مارنا جائز ہے یا نہیں لیکن وہ بچہ کو مدرسہ سے اٹھا لیتے اور علم سے محروم کر دیتے ہیں مگر دانا والدین ایسا نہیں کرتے۔وہ اپنے بچہ کو مدرسہ سے کبھی نہیں اٹھاتے۔ہاں وہ مار سے بچانے کے لئے کوئی اور تجویز کرتے ہیں۔اسی طرح بعض ماں باپ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے بچے کم سوئیں یا انکو کھانے پینے کی کوئی تکلیف ہو۔اور مسلمان کہلانے والے والدین تو اپنے بچوں کو نماز کے لئے بھی نہیں اٹھاتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مست اور غافل اور پست ہمت ہو جاتے ہیں۔ان کے اندر جفا کشی پیدا نہیں ہوتی۔اسی طرح بعض ماں باپ چاہتے ہیں کہ بچے اچھا کھائیں۔اس پر جب وہ چوری کرتے ہیں تو انہیں روکتے نہیں اور وہ بڑے ہو کر چور اور بد اخلاق ہو جاتے ہیں۔تو والدین جو محبت کی وجہ سے بچے کو کچھ نہیں کہتے اس کا الٹا نقصان ہوتا ہے کیونکہ وہی بچے بڑے ہو کر اپنے والدین