خطبات محمود (جلد 8) — Page 130
130 کو بددعائیں دیتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں علم نہ سکھایا نہ ہمارے اخلاق کا خیال رکھا نہ چال چلن کا خیال کیا۔لیکن ایک ماں باپ ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی ہر بات کی خبر گیری کرتے ہیں۔وہ ان کے جرموں پر پردہ پوشی نہیں کرتے بلکہ بعض دفعہ سزا بھی دیتے ہیں اور ان کو محنت کش بناتے ہیں۔وہ نتیجہ کے لحاظ سے خیر خواہ ہوتے ہیں۔دیکھنے والے کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچہ سے محبت نہیں رکھتے۔حالانکہ حقیقی خیر خواہ وہی ہوتے ہیں۔وہ بد خواہ ماں باپ کی طرح نہیں ہوتے۔بچوں کی نگہداشت اور ان کی درستی ہی اصلی خیر خواہی ہوتی ہے اور نتیجہ کے لحاظ سے بھی یہی اصل خیر خواہی ہے۔تو دو قسم کے خیر خواہ دنیا میں ہوتے ہیں ایک وہ ہوتے ہیں جن کے دل میں حقیقی خیر خواہی ہوتی ہے۔اور ایک وہ جو عارضی خیر خواہ تو ہوتے ہیں لیکن در حقیقت وہ بد خواہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کا خیر خواہ ہے اور حقیقی خیر خواہ ہے۔وہ نادان والدین کی طرح خیر خواہ نہیں بلکہ وہ حقیقی خیر خواہی کرتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں خدا نے ہماری دعائیں نہیں سنیں۔حالانکہ والدین بھی اپنی اولاد کی بعض باتیں نہیں مانتے۔مگر انہیں کوئی نہیں کہتا کہ یہ والدین اپنی اولاد کی کوئی بات بھی نہیں مانتے اور انہیں اپنی اولاد سے محبت نہیں۔اسی طرح خدا تعالی جو حقیقی خیر خواہ ہے وہ بندوں کی بعض باتیں نہیں مانتا کیونکہ بعض باتوں کا قبول نہ کرنا ہی در حقیقت قبول کرنا ہوتا ہے کیونکہ ان کے نہ قبول کرنے میں فائدہ ہوتا ہے اور قبول کرنے میں نقصان۔دعا کی غرض تو فائدہ پہنچنا ہے۔پس بعض وقت دعا کے نہ قبول کرنے میں بندہ کا فائدہ ہوتا ہے اور اس وقت دعا کا قبول نہ ہونا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ خدا اس کا خیر خواہ ہے اور ایسی دعا قبول کرنا یہ جتاتا ہے کہ خدا کو اس کے ساتھ خیر خواہی کا تعلق نہیں۔پس جب انسان کسی بری بات کے لئے دعا کرتا ہے تو اس بات کا نہ ہونا دعا کا قبول ہونا ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان ملازمت کے لئے دعا کرتا ہے لیکن وہ ملازمت اس کے لئے در حقیقت نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ایسے افسر کے ماتحت ہو جو اسے ملازمت سے علیحدہ کر دے یا بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان مال دار ہو کر دین سے بے پروا ہو جاتا ہے وہ انسان جو جسمانی تکلیف میں خدا کو یاد کرتا ہے اور آرام میں خدا سے غافل ہو جاتا ہے وہ اگر جسمانی تکلیف میں رہ کر خدا کو یاد کرتا ہے تو بہتر ہے اس سے کہ وہ آرام اور راحت میں رہ کر خدا سے بے پروا ہو جائے کیونکہ جسمانی تکلیف تو چند دن کی ہوگی۔لیکن اس کے مقابلہ میں ہمیشہ کے لئے اسے راحت ملے گی۔تو جس طرح ایک منٹ کا نشتر راحت کا موجب ہوتا ہے اسی طرح ایسی تکالیف بھی راحت کا