خطبات محمود (جلد 8) — Page 128
128 میں فلاں کام کروں گا اور وہ کرتا نہیں تو وہ ایسا ہی مجرم اور خائن ہے جیسا تنخواہ لیکر کام نہ کرنے والا کیونکہ اس کے کام نہ کرنے سے بھی سلسلہ کو ایسا ہی نقصان پہنچے گا جیسا تنخواہ لیکر نہ کرنے والے ہے۔اور یہ ایسی بات ہوگی جیسے اگر کوئی شخص بیمار ہو۔جس کا ایک نوکر ہو۔اگر نوکر وقت پر اسے دوائی لا کر نہ دے گا تو بیمار کو نقصان پہنچے گا۔لیکن اگر کوئی محبت سے اس کی تیمارداری کرنے لگے اور وہ دوائی لا کر نہ دے تو کیا اس کا اثر نہ ہوگا۔ہوگا۔پس اگر آنریری کام کرنے والا جب دوسروں کو اس کام کے کرنے سے روک دیتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ خود کام کرے نہ کہ نقصان پہنچائے۔اگر وہ کام کرنے کا اقرار نہ کرتا تو کوئی اور اس کام کو کر لیتا۔مگر اس نے اقرار کر کے پھر کام خراب کیا۔پس جو لوگ تنخواہیں نہیں لیتے۔ان کا بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح تنخواہ لینے والوں کا۔اگر وہ کام کو عمدگی کے ساتھ اور پوری کوشش سے نہیں کرتے تو وہ بھی خائن ہیں۔اسی طرح جو شخص روپیہ احتیاط سے خرچ نہیں کرتا وہ بھی خائن ہے۔جو وقت پورا نہیں دیتا وہ بھی خائن ہے۔اور وہ جس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ کوشش سے کام سیکھ کر کام چلائے گا مگر وہ اس طرح نہیں کرتا کام کی مالہ وما علیہ سے واقفیت پیدا نہیں کرتا وہ بھی خائن ہے۔اور یاد رہے کہ خیانت اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔وہی مومن ہے جو امین ہے اور جو امین نہیں وہ مومن نہیں۔پس میں خصوصیت سے یہاں کے لوگوں کو اور باہر کے سیکرٹریوں اور امیروں کو توجہ دلاتا ہوں که آنریری طور پر کسی کام کا ذمہ لینے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کام کا کرنا فرض نہیں ہوتا۔اگر آنریری کام کرنے والے اپنے کام میں کو تاہی کرتے ہیں تو ویسے ہی خائن ہیں جیسے تنخواہ لیکر کام میں خیانت کرنے والے۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو خیانت اور دیانت کا اصل مفہوم سمجھائے۔اور ہماری جماعت دینی امور میں ہی نہیں بلکہ دنیوی امور میں بھی سب لوگوں سے بڑھی ہوئی ہو تاکہ جو کام اس کے سپرد ہوں۔ان کو عمدگی سے کرے۔نماز جمعہ کے بعد ایک جنازہ پڑھا جائے گا میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ اگر کوئی احمدی ایسی جگہ فوت ہو جائے جہاں احمدی نہ ہوں یا ایسا شخص جو دین کی خدمت کرنے کی وجہ سے اس بات کا مستحق ہو کہ ساری جماعت اس کا جنازہ پڑھے تو اس کا جنازہ پڑھا جائے گا۔نیک محمد خان افغان غزنوی کے والد صاحب کابل میں ایسی جگہ فوت ہوئے ہیں۔جہاں اور احمدی نہ تھے۔اس لئے ان کا جنازہ پڑھوں گا۔الفضل ۱۱۳ جولائی ۱۹۲۳ء)