خطبات محمود (جلد 8) — Page 127
127 سمجھے گا۔اور اخلاص سے کام کرے گا۔لیکن اگر کوئی شخص اپنے کام کو سمجھتا نہیں اور دن رات دفتر میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ اپنے فرض سے سبک دوش نہیں ہو سکتا بلکہ خدا اس سے پوچھے گا کہ تم نے کیا کام کیا۔جس طرح ایک الٹا لٹکنے والا۔سورج کے سامنے منہ کر کے کھڑا رہنے والا۔سردی کے موسم میں پانی میں کھڑا رہنے والا اس وجہ سے قطعا نہیں بخشا جائے گا کہ اس نے زیادہ مشقت اٹھائی ہے اسی طرح وہ شخص جو مشقت تو زیادہ اٹھاتا ہے مگر کام کچھ نہیں کرتا وہ بھی گرفت سے نہیں بچ سکے گا۔پس اگر کوئی بزعم خود اخلاص اور دیانت داری سے کام کرتا ہے مگر اخلاص اور دیانت داری کے معنے اس کے نزدیک زیادہ وقت خرچ کرنے کے ہیں تو وہ خدا کے حضور سبکدوش نہیں ہو سکتا۔سبکدوش سبھی ہوگا کہ جو ذرائع اور طریق خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے رکھے ہیں۔ان سب کو استعمال میں لانے کی کوشش کرے۔اگر ایک انگریز ملازم یا اگر ایک ہندو ملازم اس کام کو زیادہ عمدگی کے ساتھ کرتا ہے۔تو اس کے یہی معنے ہیں کہ جو بات عقل سے حاصل ہو سکتی تھی وہ اسلام کے لئے حاصل نہ کی گئی اور اس وجہ سے اسلام کو نہ صرف کوئی فائدہ نہ پہنچایا بلکہ الٹا نقصان کا موجب بنا۔دیانت داری یہی نہیں کہ روپے میں خورد برد نہ کی جائے۔بہت لوگ اسی کو دیانت داری سمجھتے ہیں اور کسی سے سات آٹھ گھنٹے کام کرنے کی امید کی جاتی ہے۔مگر وہ تین چار گھنٹے کام کرتا ہے تو اس کو بددیانتی نہیں کہیں گے بلکہ اس کو غفلت سمجھ لیں گے۔حالانکہ وہ ایسا ہی خائن ہے جیسا کہ سو میں سے دس روپے چرانے والا۔لیکن اگر کسی کے پاس سو روپیہ رکھا جائے اور وہ اس میں سے دس کھا جائے تو اسے خائن کہیں گے۔لیکن اگر سات گھنٹے کام کرنا ہے اور چھ گھنٹے کرتا ہے تو اسے خائن نہیں قرار دیا جائے گا اور اگر دوسری باتوں میں اچھا ہے تو اسے ولی اللہ سمجھا جائے گا حالانکہ دونوں ایک ہی جیسے مجرم ہیں بلکہ وقت میں خیانت کرنے والا زیادہ کیونکہ روپیہ کا نقصان تو اتنا ہی ہوتا ہے جتنا روپیہ ہوتا ہے۔لیکن وقت کے نقصان کا اثر آئندہ پر پڑتا ہے۔پھر اگر کہا جائے کہ فلاں وقت پر حاضر نہیں ہوتا یا وقت سے قبل چلا جاتا ہے تو اس کو برا کہیں گے لیکن جن سے امید کی جاتی ہے کہ کام سیکھ کر کام کریں گے وہ اگر ایسا نہ کریں تو اپنے آپ کو دیانت دار سمجھیں گے۔سات کی بجائے ساڑھے چھ گھنٹے کام کرنے والے کو تو خائن کہیں گے۔حالانکہ اگر وہ اپنے کام کو سمجھ کر کرتا ہے تو گو وہ بھی خائن ہے مگر وہ جو کام تو سات گھنٹے کرتا ہے۔مگر سمجھ کر نہیں کرتا۔اس سے زیادہ خائن ہے کہ پہلے نے تو آدھ گھنٹہ کھایا۔مگر اس نے سات کے سات گھنٹے ہی کھالئے۔بات یہ ہے کہ جب تک امانت کا صحیح مفہوم نہ سمجھا جائے یہ نقص دور نہیں سکتا اور افسوس ہے کہ یہاں کئی ایک لوگ نہیں سمجھتے۔اسی طرح یہ بھی ایک نقص ہے کہ آنریری کام کرنے والے کام کرنے کی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے۔حالانکہ جب کسی نے اقرار کر لیا کہ ہو