خطبات محمود (جلد 8) — Page 107
107 20 ہندوؤں سے چھوت چھات کوئی مذہبی مسئلہ نہیں (فرموده ۱۵ جون ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ہر ایک چیز کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک وہ مقصد جس کو وہ پورا کر رہی ہوتی ہے اور ایک مقصد جس کے پورا کرنے کے لئے وہ بنائی جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص ایک مکان بناتا ہے اس مکان کے بناتے وقت اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کا مال محفوظ ہو جائے۔اپنے مال کو محفوظ کرنا مکان کے بنانے کی غرض ہے۔مگر بعض نقائص کی وجہ سے وہ مکان چوروں کی نقب زنی سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔اس کا مال چوری ہو جاتا ہے۔گو وہ سردی اور گرمی اور بارش سے اس مکان کے ذریعہ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ایک اور شخص ایک مکان بارش سردی گرمی سے محفوظ ہونے کے لئے بناتا ہے۔بعض نقائص کے رہ جانے کی وجہ سے وہ مکان اس مقصد کو تو پورا نہیں کرتا جس کے لئے بنایا گیا تھا یعنی مالک مکان بارش سے کما حقہ محفوظ نہیں رہتا مگر چوری وغیرہ سے اس مکان سے اس کا مال محفوظ ہو جاتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ جس مقصد کے لئے کوئی چیز بنائی جاتی ہے وہ اور ہوتا ہے اور جو مقصد وہ چیز پورا کر رہی ہوتی ہے وہ اور ہوتا ہے۔مثلاً ایک بادشاہ اپنے شہر کے اردگر ایک فصیل بناتا ہے کہ شہر دشمن کے حملہ سے محفوظ رہے۔ممکن ہے کہ وہ دیوار یا فصیل دشمن کو نہ روک سکے مگر اس کے ذریعہ سے اور فوائد حاصل ہوں۔سو ایک مقصد تو ہر چیز کا وہ ہوتا ہے جس کو وہ پورا کر رہی ہے اور دوسرا وہ ہوتا ہے جو اس کے بنانے والا کا ہوتا ہے۔ماں باپ بچوں کو پڑھاتے ہیں ان کی تعلیم سے ان کا مطلب مثلاً یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں مگر بعض دفعہ وہ بچے دہر یہ ہو جاتے ہیں۔گو اس تعلیم کے ذریعہ سے وہ اپنی معاش کو کما لیتے ہیں۔پس ہر چیز اپنے اندر دو مقصد رکھتی ہے۔ایک وہ جس کو وہ پورا کر رہی ہے اور ایک وہ مقصد جس کے پورا کرنے کے لئے وہ بنائی گئی ہے۔اب حالتیں مختلف ہوتی ہیں۔بعض دفعہ وہ مقصد جس کو وہ چیز پورا کر رہی ہوتی ہے اس مقصد سے بڑا ہوتا ہے جو اس کے بنانے والے کے مد نظر ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ مد نظر مقصد بہت اعلیٰ ہوتا ہے مگر وہ اس کو پورا نہیں کر رہی