خطبات محمود (جلد 8) — Page 106
106 دشمن ہونگے یا دوست جو بچوں کو سفر پر جاتے ہوئے کھوٹے روپیہ دے دیں کہ جہاں وہ جائیں اور کچھ خریدنے لگیں پکڑے جائیں۔یقیناً ایسے ماں باپ بچوں کے دشمن ہیں۔ہاں وہ ماں باپ بچے کے دوست ہیں جو بچے کو صاف طور پر کہدیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم تم کو دیں۔کیا کوئی جرنیل محض اس لئے خوش ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس بڑی فوج ہے حالانکہ اس کی حالت یہ ہو کہ وہ وقت پر ہتھیار ڈال دے۔ایسے لوگ جماعت کے دشمن ہیں۔ایسے لوگ مستحق ہیں کہ ان کو سزا دی جائے۔یہ لوگ نفاق سے نام دیتے ہیں ان کو کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ نام دیں تاکہ ان کی شہرت ایک شخص وہاں گیا ہوا ہے اس نے لکھا ہے کہ مجھے دفتر میں لگایا ہوا ہے۔میں کسی طرح کام نہیں کر سکتا کیونکہ میرا بچہ بیمار ہے۔کیا یہ شخص اگر فوج میں ملازم ہوتا تو اس طرح کہہ سکتا تھا کہ اگر اس کے سارے رشتہ دار مرجاتے تب بھی کچھ نہ ہوتا۔کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ تلوار کے ڈر سے تو کام کر سکتے ہیں لیکن اخلاص سے کام نہیں کر سکتے۔ایسے منافق طبع لوگوں کی سلسلہ کو ضرورت نہیں۔جب تک خلوص کے لئے تلوار سے زیادہ جذبہ خدمت دین نہ ہو تو کوئی مستحق انعام نہیں ہو سکتا۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ دکھاوے کیلئے کوئی کام کرنا کچھ بھی نتیجہ خیز نہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے۔وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو اگر وہ ظالم ظلم نہیں چھوڑتا تو میں اپنی بے پروائی اور استغنا کی حالت کو کیوں ترک کروں اور اس طرح اس کے سامنے ذلیل ہوں۔وہ اگر اپنے ظلم پر پختہ ہے تو میں بے پروائی پر پختہ رہوں گا۔پس وہ شخص مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں اور مومن نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے عہد پر قائم نہ ہو۔کیونکہ مومن وہ ہے جو خدا کے لئے لکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ آگے آئے اور پیچھے قدم نہ رکھے۔اگر وہ قدم آگے رکھ کر پیچھے ہٹاتا ہے تو یہ اس کے لئے قابل شرم ہے۔پس چاہیے کہ اپنا رویہ بدلو ورنہ ایسا ایمان خدا کے سامنے قیامت کے دن کام نہیں آئے گا۔ایسی باتوں سے تم خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔بلکہ اپنی جانوں کو دھوکے میں مبتلا کرتے ہو۔خدا اسی کی قدر کرے گا جو خالص ہے جس میں عزت طلبی کا مادہ ہے۔وہ اس میدان میں نہیں آسکتا۔پس اپنے ایمان کی ترقی کی فکر کرو۔اللہ تعالیٰ تم پر فضل کرے اور تمہاری کمزوریوں کو دور فرمائے۔جو طاقتور ہیں ان کو کام کی توفیق دے اور ارادوں کے پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین۔الفضل ۱۸ جون ۱۹۲۳ء)