خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 108

108 ہوتی۔یا جو مقصد وہ چیز پورا کر رہی ہوتی ہے وہ اونی ہوتا ہے۔اگر وہ مقصد جس کے لئے وہ چیز بنائی گئی ہے اعلیٰ ہو اور جو کام وہ کر رہی ہے اوٹی ہو تو اس کو ترقی دی جا سکتی ہے۔یہ تو ان چیزوں کا حال ہے جن کو انسان بناتا ہے۔لیکن جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ بناتا ہے ان کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔وہ بھی دو مقاصد اپنے اندر رکھتی ہیں۔اور گو وہ مقصد جس کے لئے بنائی جاتی ہیں ہر بار پورا نہیں ہوتا مگر انسان کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرح وہ اپنے مقررہ مقصد سے آگے نہیں نکل سکتیں کہ اس سے اللہ تعالی پر عیب آتا ہے۔پھر آگے مقاصد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ مقاصد جن کو ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے۔اور ایک وہ مقاصد جن کو ہر حال میں پورا کرنے سے ان مقاصد کی غرض ہی باطل ہو جاتی ہے اگر جبر سے ان کو پورا کیا جائے۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی روحانی ترقیات حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔یہ اس کی پیدائش کی غرض ہے۔جیسے فرماتا ہے۔ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون (الذریت : (۵۷) لیکن اگر اللہ تعالیٰ جبری طور پر انسان کو عبد بناتا اور اس کو اپنے افعال میں اختیار نہ دیا جاتا تو وہ مستحق انعام نہ ٹھہرتا اور اس کے عبد بنانے کی غرض باطل ہو جاتی اور انسان کی مثال ایسی ہو جاتی جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کو پیاس لگی ہوئی ہے دوسرا اس کو پانی لا کر دیتا ہے۔اس کی پیاس بجھ جاتی ہے۔پانی لانے والے انسان کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔مگر پانی کا کوئی شکریہ ادا نہیں کرتا حالانکہ پیاس پانی سے بجھائی گئی تھی۔اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ پانی پیاس بجھانے کے فعل میں مجبور ہے۔وہ مستحق شکریہ نہیں۔یہی حال حالت جبر میں انسان کا ہو جاتا ہے اور اس کی پیدائش کا مقصد برباد ہو جاتا ہے۔انسان کو اپنے افعال میں اختیار دیا گیا ہے جس کا بعض دفعہ یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اس کو پورا نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات اس مقصد کے راستہ میں روک ہو جاتا ہے۔جیسے ابو جہل، محمد حسین ، ثناء اللہ وغیرہ نہ صرف یہ کہ وہ اس مقصد کو پورا نہیں کرتے۔جس کے لئے وہ پیدا کئے گئے تھے بلکہ اس مقصد کے راستہ میں روک ہو جاتے ہیں۔لیکن یہاں پر ان پر جبر نہیں کیا جاتا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون کہہ کر فرمایا کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کرے اور پھر ان کا جلوہ دنیا میں دکھائے۔اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی سے کوئی سلوک کرتا ہے تو اس کا وہ سلوک ایک قانون کے ماتحت ہوتا ہے۔انسان کی طرح وہ سلوک اندھا دھند نہیں ہوتا۔ابو جہل نے خدا کے سب سے پیارے رسول کی مخالفت کی۔لیکن خدا کا سورج ابو جہل کے لئے بھی ایسا ہی چڑھ رہا تھا جیسا محمد رسول اللہ کے لئے۔اسی طرح اس کی آنکھ کان ناک معدہ کو اپنے اپنے کام کرنے کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے مدد ملتی تھی جیسے محمد رسول اللہ کی آنکھ کان ناک