خطبات محمود (جلد 7) — Page 391
٣٩١ جائے تو یہ اسکی سستی ہوگی۔تو قبض و بسط کا سلسلہ اور ہے اس میں قبض بھی ترقی کا ذریعہ ہوتی ہے۔اور اس کی ایسی مثال ہے۔جیسے کوئی کسی کو جبراً پکڑ کے لے جائے۔یا مثلا نماز میں وہ ذوق اور شوق نہ ہو جو اسے پہلے حاصل تھا۔لیکن باوجود اس کے پھر وہ توجہ سے پڑھتا ہے اور اسے چھوڑتا نہیں تو یہ قبض کہلائے گی لیکن یہ ترقی کا ذریعہ ہوگی اور اگر چھوڑ دے تو پھر وہ قبض نہیں کہلائے گی بلکہ اس کی سستی ہوگی۔تو روحانیت کا یہ ایک جزو ہے کہ انسان اعمال میں دوام اختیار کرے۔اللہ تعالی ہمارا انجام بخیر کرے۔ہم ہمیشہ آگے ہی ترقی کریں اور اس کی رحمت کے نیچے رہیں۔اور ایسا نہ ہو کہ ہمارا قدم پیچھے پڑے بلکہ ہم آگے ہی آگے بڑھتے جائیں۔الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۲ء)۔۔۔ا بخاری کتاب الایمان باب احب الدین الی اللہ ادومه ابن ماجه کتاب اقامة الصلوۃ باب ماجاء فی قیام اللیل