خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 392

73 73 par کارکنان جماعت سے خطاب (فرموده ۲۷ / اکتوبر ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں آج ایک ایسے مضمون کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں جس کے متعلق ایک سال یا کچھ کم و بیش عرصہ ہوا انہی دنوں میں توجہ دلائی تھی۔میری غرض دوبارہ اس مضمون کو چھیڑنے سے یہ نہیں کہ کسی سے اس بات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔بلکہ اس سے یہ غرض ہے کہ جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ میں بیان کیا تھا۔پسندیدہ عمل وہی ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے۔پس میری غرض اس مضمون کو بیان کرنے سے یہ ہے کہ احباب کو توجہ دلاؤں کہ وہ اس مضمون کو دیر ہو جانے کی وجہ سے بھول نہ جائیں بلکہ یاد رکھیں کیونکہ وہ مضمون ایسا ہے جس کو اپنے معاملات میں مد نظر رکھنا چاہیے۔اور اس کی خلاف ورزی دینی حالت اور دنیاوی حالت اور روحانیت کے لئے خطرناک ہے۔غالباًا انہی ایام میں پچھلے سال میں نے اس مضمون کے خطبات پڑھے تھے کہ جو لوگ یہاں ہجرت کر کے اس لئے آئے ہیں کہ دین کی خدمت کریں وہ یہاں بطور ملازم کے نہیں ہیں کیونکہ دین میں کبھی ملازم نہیں رکھے گئے۔دین کے کام ہمیشہ اصحاب سے ہوئے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ جو واعظ تھے۔قرآن کریم میں ان کا نام حواری رکھا گیا ہے۔جس کے معنی ہیں اصحاب۔حواری دھوبی کو بھی کہتے ہیں۔جو کپڑوں کو دھو کر کر ان کی میل دور کرتا ہے۔اور حضرت عیسی کے جو حواری تھے وہ دلوں کو دھوتے تھے وہ ملازم نہ تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حالات زمانہ کے ماتحت ہمیں مقررہ تنخواہیں دینی پڑتی ہیں۔کیونکہ جو معیشت کی پہلے سہولت تھی اور جو معیشت کے سامان پہلے تھے وہ اب نہیں۔گذشتہ زمانہ میں معیشت کا انحصار چیزوں پر تھا۔مگر اب روپیہ پر ہے۔پہلے زمانہ میں نہ روپیہ زیادہ تھا۔اور نہ روپیہ پر اس قدر کام چلتے تھے۔بلکہ غلہ پر چلتے تھے۔اس زمانہ میں روپیہ کا استعمال کم ہو تا تھا۔اس وجہ سے لوگوں کی رہائش کا طریق اقتصادی طور پر تھا۔کیونکہ جب روپیہ سے کام نہ چلانا ہو تو ضروریات کم