خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 390

۳۹۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین میں سب سے زیادہ پسندیدہ کام وہ ہو تا تھا جس پر دوام ہو۔۔۔یہ نہیں کہ ایک وقت تو خوب لمبی لمبی نمازیں پڑھے۔اور پھر بالکل ہی چھوڑ دے۔خدا کے بندوں اور دنیاوی بندوں میں یہی امتیاز ہے کہ خدا کے بندے ایک طرف استقلال کے ساتھ کوشش کرتے ہیں۔اور اس کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں۔پھر اسی طرح دینی و دنیاوی علماء میں یہ بھی فرق ہے کہ بڑے بڑے دنیا دار بڑھاپے میں جاکر رک جاتے ہیں۔اور ان کی جگہ نئے لوگ آتے ہیں۔جو نوجوان ہوتے ہیں اور ان پہلوں کو پیچھے ہٹایا جاتا ہے۔لیکن دینی علماء جن کا خدا کے ساتھ تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ ترقی ہی کرتے ہیں۔ان کی ابتدائی اور آخری حالت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔وہ جوں جوں جسمانی طور پر کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ان پر زیادہ روحانی علوم کھلتے جاتے ہیں۔کیا یہ امر ثابت نہیں کرتا کہ نیک بندوں کا منبع اور ہے اور دنیاوی انسانوں کا منبع اور ہے۔یہ تو بے شک کمزور ہوتے ہیں لیکن ان کا منبع کمزور نہیں ہوتا بلکہ ان کو اس وقت علوم سکھائے جاتے ہیں جبکہ رات کو لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔پس انسان جس کام کو شروع کرے اس پر مداومت کرے چھوڑے نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فرمایا کہ فلاں کی طرح نہ ہو جاتا جو پہلے تہجد پڑھا کرتا تھا اور پھر چھوڑ دی۔۲؎ تو در حقیقت یہ بڑی بری بات ہے کہ انسان ایک کام شروع کر کے پھر اسے چھوڑ دے۔دیکھو اگر تم کل کی طرح آج بھی کام کرو گے تو کل کا کام بھی تمہارے کام آئے گا۔لیکن اگر آج کام نہیں کرو گے تو کل کا کیا ہوا کام بھی ضائع ہو جائے گا تمہاری کل کی خدمتیں کل کے روزے کل کی نمازیں کام نہیں دے سکتے۔جب تک آج بھی اسی جوش کے ساتھ کل والے کام نہ کرو گئے۔پس اپنے اعمال میں جھٹکے نہ دو۔جو شخص اپنے اعمال میں جھٹکے دیتا ہے اس کے لئے بڑے خطرے کا مقام ہے۔اپنے خلوص اور نیکی میں ترقی کرو کل سے آج تمہاری ترقی ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت لوگوں میں اور خصوصاً طالب علموں میں یہ بڑا مرض ہے کہ وہ ایک وقت میں اپنی ہمت سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔اور پھر تھوڑی مدت کے بعد بالکل ست ہو جاتے ہیں۔اس کی بجائے اگر وہ پہلے ہی اپنی طبیعت پر بوجھ ڈال کر اور جبر کر کے تھوڑا کام کریں۔اور اپنے اندر ذخیرہ جمع رکھیں۔تو اگلے دن پہلے سے زیادہ ہمت کے ساتھ کام کر سکیں۔اس دوام سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں قبض و بسط سے انکار کرتا ہوں۔مگر ایک قبض وہ ہے جو خود انسان اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔یہ قبض اچھی نہیں۔اور ایک وہ قبض ہے جو خود بخود ایک حد تک انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔قبض کی مثال رسہ کشی کی سی ہے۔ایک شخص دوسرے شخص سے رسہ کھینچ کر لے جائے تو اس کا قصور نہیں۔لیکن اگر یہ تھوڑا سا کھینچ کر ہمت ہار کر بیٹھ