خطبات محمود (جلد 7) — Page 389
ہو گا کہ گیہوں خود بخود پیدا ہو جائے۔جب تک بیج اور زمین اور پانی نہ ہو۔پھر سورج کی شعاع نہ ہو جب تک یہ چاروں چیزیں نہ ہوں تب تک غلہ نہیں پیدا ہو گا۔پھر انسان کی محنت الگ ہے۔موسم کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ان میں سے اگر کوئی ایک چیز بھی نہ ہو تو غلہ نہیں پیدا ہو گا۔یہی حال علم کا ہے۔علم موجود ہو لیکن پڑھنے والے کا دماغ ٹھیک نہ ہو۔یا آنکھیں نہ ہوں۔استاد پڑھانے والے نہ ہوں۔پھر اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے فراغت ہو، توجہ ہو ، استقلال ہو۔جب تک یہ تمام چیزیں مہیا نہ ہوں تب تک علم نہیں حاصل ہو گا یہی حال روحانیت کا ہے روحانیت کے حصول میں بھی جب تک ساری کی ساری چیزیں نہ ہونگی تب تک نتیجہ نہیں پیدا ہو گا۔روحانیت کا بھی بعینہ وہی حال ہے جو دوسری چیزوں کا ہے۔بہت لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہمیں روحانیت نہیں حاصل ہوتی۔حالانکہ وہ روحانیت حاصل کرنے کے لئے وہ کام نہیں کرتے جو اس کے لئے ضروری ہیں۔اب مثلاً کوئی کھیت میں بیج نہ ڈالے اور کہے جی غلہ نہیں ہوتا۔یا پھر بیج بھی ڈالے لیکن صحیح قاعدہ سے نہ ڈالے اور کہے کہ کھیتی نہیں ہوتی۔تو اسے کون عقلمند کے گا۔پھر صحیح طور پر پیج بھی ڈالے لیکن پانی نہ ہو تب بھی غلہ نہیں ہوگا۔یا پانی تو ہو لیکن تصرف اللہی کے ماتحت مفید نہ ہو تب بھی غلہ پیدا نہیں ہو گا یا مثلاً آم کے درخت کو کوئی اکھاڑ کر کہے کہ پھل دیوے تو یہ نہیں ہو گا۔یا وہ کہے کہ زمین آم دے یا پانی آم دے۔تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔بعینہ یہی حال روحانی ترقیات کا ہے۔روحانی ترقی کے ثمرات بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔جب تک تمام باتوں کا لحاظ نہ ہو۔اس کے لئے اس وقت میں جس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ استقامت ہے جو شخص استقامت نہیں اختیار کرتا وہ روحانی ترقی بھی حاصل نہیں کر سکتا مثلاً ایک شخص صرف پانچ نمازیں پڑھتا ہے اور اتنی ہی زکوۃ دیتا ہے جتنی اس پر فرض ہے یا روزے جتنے اس پر فرض ہیں اتنے رکھتا ہے۔تو یہ شخص ترقی کر جائے گا۔لیکن ایک شخص ہے جو کبھی تو ساری ساری رات نماز پڑھتا ہے اور کبھی پانچ نمازیں بھی با جماعت نہیں پڑھتا۔یہ کبھی روحانی ترقی نہیں حاصل کرے گا پس خوب یاد رکھو۔جو لوگ باجماعت نماز نہیں پڑھتے وہ الگ بھی کبھی ٹھہر ٹھہر کر نماز نہیں پڑھیں گے۔اور جو لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں وہ کبھی روحانی ترقی نہیں حاصل کر سکتے۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں ترقیات کے حاصل کرنے کا ذریعہ یہی فرماتا ہے۔واستعينوا بالصبر والصلوة (البقره ٣٦) کہ صبرو دعا کے ساتھ اعانت حاصل کرو۔ایک طرف تو جس کام کو شروع کیا ہو۔اس کو نہ چھوڑے اور پھر تکبر نہ کرے کہ میں کام کرتا ہوں بلکہ اس کے ساتھ دعا کرے۔کوشش کے بعد خدا سے دعائیں بھی کرنی چاہئیں۔تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی نقص کی وجہ سے غیر معمولی طور پر کوئی ایسا سامان پیدا ہو جو کوشش کو رائیگاں کر دے۔پس یہی ایک ذریعہ ہے کامیابی کا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ