خطبات محمود (جلد 7) — Page 388
72 روحانی ترقی استقامت کے بغیر نہیں ہو سکتی (فرموده ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے افعال پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص قانون الہی تمام روحانی و جسمانی معاملات میں چلتا ہے اس قانون کو نظر انداز کرنے سے انسان کبھی عمدہ ثمرہ اور پھل نہیں حاصل کر سکتا۔جس طرف بھی ہم نظر اٹھا کر دیکھیں اور جس قسم کی اشیاء کو بھی دیکھیں وہ یہی قانون نظر آتا ہے۔ہ قانون یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز نہیں معلوم ہوتی کہ جس کا ثمرہ اسی سے پیدا ہو۔جب کبھی کوئی نتیجہ نظر آتا ہے خواہ وہ روحانی اشیاء میں نظر آتا ہے۔یا جسمانی اشیاء میں یا تمدنی معاملات میں وہ ہمیشہ دو چیزوں سے پیدا ہوا ہو گا۔دنیا میں ہم جس خاص چیز کو دیکھتے ہیں وہ انسان ہے۔اس میں بھی دو سے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے۔اور درحقیقت وہ بچہ دو سے بھی نہیں پیدا ہو تا بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں اشیاء سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ انسان غذا کھاتا ہے جو کئی چیزوں سے تیار ہوتی ہے۔اس غذا کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔پھر عورت کا صرف رحم ہی اس بچے کو پرورش نہیں کرتا۔بلکہ اس کے لئے غذا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔تو بچہ نہ صرف مرد سے اور نہ صرف عورت سے پیدا ہوتا ہے۔بلکہ سینکڑوں چیزوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔پھر دونوں میں سے اگر ایک میں نقص ہو تب بھی بچہ پیدا نہیں ہو گا مثلاً عورت میں نقص ہو تو مرد خواہ کیسا ہی قوی ہو بچہ نہیں ہو گا۔یا مرد میں نقص ہو تب بھی بچہ نہیں پیدا ہو گا۔پھر بعض دفعہ دونوں میں نقص ہوتا ہے۔ان باتوں سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک چیز کام نہیں کر سکتی بلکہ کئی چیزیں مل کر کام کرتی ہیں۔انسان کا ایک چھوٹا سا کام دیکھنا ہے۔لیکن اس میں آنکھیں کام نہیں کر سکتیں جب تک سورج کی روشنی نہ ہو۔اور پھر آنکھ کے خاص اعصاب نہ ہوں یہی حال کانوں کا ہے۔غرضیکہ کوئی چیز ایسی نہیں نظر آتی جو اکیلی ہی کافی ہو۔مثلاً غلہ ہی دیکھو کبھی ایسا نہیں