خطبات محمود (جلد 7) — Page 381
کوئی نہیں کہتا کہ دنیا کو بالکل چھوڑ دو۔دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے تھے۔آپ کے اپنی بیویوں کے ساتھ تعلقات تھے۔رشتہ داروں سے ملتے اور اظہار محبت کرتے تھے۔کچھ وقت ان کاموں میں بھی صرف کرتے تھے۔یہ کام دنیاوی ہیں دینی نہیں اور کوئی نبی نہیں جس نے اپنا کچھ وقت دنیا کے معاملات میں نہ لگایا ہو۔اور یہ کوئی عیب نہیں بلکہ ایک حد تک ان معاملات میں وقت لگانا ضروری ہے۔اور اگر ان امور میں وقت صرف نہ کیا جائے اور ہر وقت نمازیں ہی پڑھی جائیں اور روزے ہی رکھے جائیں تو شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے۔چنانچہ ایک شخص ہمیشہ روزے رکھا کرتا تھا۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ کا ایک خاص حصہ ہے جس میں وہ لوگ ڈالے جائیں گے جو ہمیشہ روزے رکھتے ہیں۔اے نماز دین ہے لیکن سورج جس وقت چڑھ رہا ہو۔یا سورج مین سر پر ہو نماز پڑھنا انسان کو شیطان بنا دیتا ہے۔اس سے اسلام کا منشاء یہ ہے کہ انسان کا کوئی وقت نمازوں سے فارغ بھی رہنا چاہیے کیونکہ وہ بھی قدرت کے احکام ہیں جن کا پورا کرنا ضروری ہے۔لیکن اس کے باوجود جس وقت دین اور دنیا کا مقابلہ ہو۔اس وقت دنیا سے خواہ کتنی ہی محبت ہو مومن کا فرض ہے ثابت کر دے۔کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں۔اور اس وقت دین کے لئے جو بھی قربانی کرنی پڑی وہ کر دے۔روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت امام حسن نے حضرت علیؓ سے کہا کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے فرمایا ہے۔پھر کہا کہ خدا سے بھی محبت ہے فرمایا ہے۔عرض کیا یہ تو شرک ہوا حضرت علی نے جواب دیا کہ نہیں جس وقت تمہاری محبت خدا کی محبت کے مقابلہ میں آجائے گی اس وقت میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۲۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں بھی انسان کو وقت لگانا چاہیے لیکن جب دنیا دین کے مقابلہ میں آجائے تو پھر دنیا کو چھوڑ کر دین کا پہلو اختیار کر لینا چاہیے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو کوئی دنیاوی تکلیف پہنچتی ہے یا نقصان ہوتا ہے اور اس کو دین پر شبہ ہوتا ہے یا کسی بڑے لڑائی ہوتی ہے۔تو اس لڑائی کے باعث حضرت مسیح موعود کے دعویٰ پر شک ہونے لگتا ہے۔تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسے شخص نے دین کو دین سمجھ کر نہیں مانا تھا اور اس کا دیندار ہونے کا خیال غلط خیال تھا۔میں نے یہ تمہید ایک خاص واقعہ کے متعلق بیان کی ہے۔جو میں اب بتانا چاہتا ہوں۔اور جس کے متعلق مجھے افسوس بھی ہے ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ اس کو ظاہر کیوں کیا گیا۔مگر میرا یہ خیال نہیں۔جب لوگوں کا حق ہے تو پھر اسے کیوں چھپایا جائے۔سٹور کا معاملہ ہے جیسا کہ سب کو معلوم ہے یہاں ایک سٹور قائم کیا گیا تھا۔جماعت کے کچھ افراد نے اس میں روپیہ دیا تھا۔مگر اس میں ایک حد تک بعض لوگوں کی بے احتیاطی سے یا قانون کے نقص سے نقصان ہوا ہے۔جب تک مخص ت