خطبات محمود (جلد 7) — Page 382
۳۸۳ کسی کی بددیانتی ثابت نہ ہو میں بے احتیاطی ہی کہوں گا اس وقت جو نفع ہوا ہے اگر اس کو ملایا جائے تو کوئی نقصان نہیں۔لیکن اگر اس نفع کو نفع ہی سمجھا جائے تو گھاٹا ہوا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں میں کم ہمتی پیدا ہو گئی ہے۔کیونکہ پہلی کوشش ہی میں اگر نقصان ہو تو اس سے کئی لوگوں کے حوصلے گر جاتے ہیں۔اور ایک کھلا کھلا نقصان یہ ہے کہ دین کے معالمہ میں بھی کچھ لوگوں کو ٹھو کر لگی ہے۔میرے نام ایک خط آیا ہے جس میں لاہور کے کسی شخص کا نام ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ اس میں کسی قادیان کے شخص کا بھی دخل ہے۔لفافہ پر پہلے ایڈیٹر اہل حدیث امرتسر لکھا ہے۔اور پھر اس کو کاٹ کر میرا پتہ لکھا گیا ہے۔اور پھر ایڈیٹر اہل حدیث کو لکھا ہے کہ اس خط کو فوراً پہنچا دیں۔اور اگر اس پر کچھ اعتراض ہو تو میں اس کا ذمہ وار ہوں۔اور میں اس کا جواب دوں گا۔یہ بات کہ یہ کسی احمد نی کہلانے والے کا ہے اس سے معلوم ہوتی ہے کہ میرا نام خلیفتہ المسیح لکھا ہے اور پھر میری طرف لکھا ہے کہ میں اہل حدیث کو یہ خط بھیجنے لگا تھا۔مگر آپ کو پہلے اس لئے بھیجتا ہوں کہ جماعت کی بدنامی نہ ہو۔اور پھر اہل حدیث کے نام جو کچھ لکھا ہے وہ یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کی دیانت کا حال ہے جو دنیا میں بڑے بڑے دینداری کے دعوے دار ہیں اس کے بعد اس نے پہلے میری سٹور کے متعلق سفارش نقل کی ہے کہ جہاں تک میرا علم ہے سٹور کے کارکن دیانتدار ہیں۔اس کو نقل کر کے کہا ہے کہ یہ ایک پھندا تھا جب روپیہ لوگوں نے دیا تو پھر روپیہ کھانا شروع کر دیا۔اور کھاتے کھاتے یہاں تک پہنچایا کہ ساٹھ ہزار میں سے صرف ۱۸ ہزار باقی رہ گیا ( یہ بات بالکل غلط ہے نقصان کم ہے اور سرمایہ زیادہ ہے) جو زمین سٹور کی بہاتی ہے وہ ایسی ہے کہ اس میں ہر (سیلاب) آتا ہے۔یہ اس لئے کہ حصہ دار ان اس میں ڈوب مریں۔پھر اس قسم کے اور لطائف لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ کہ کیوں نہ گھانا ہوتا۔یہ لوگ اس میں سے روپیہ کھاتے رہے اپنے مال اور دو کا نہیں تیار کرتے رہے۔پھر لکھا ہے کہ گھاٹا آنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔کیونکہ جس نرخ پر اشیاء خریدتے تھے اس سے زیادہ نرخ پر بیچتے تھے۔۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں مضمون لکھنے والے کا منشاء یہ تھا کہ وہ اہل حدیث کو یہ مضمون بھیجے بلکہ اس نے یہ خط میرے ہی نام لکھا تھا اور اہل حدیث کا نام لکھ کر کاٹنے کی یہ وجہ ہے کہ اس کے خیال میں جب ہم اہل حدیث کا نام لکھا دیکھیں گے تو کانپ جائیں گے۔اور سمجھیں گے کہ اگر یہ خبر شائع ہو گئی تو فوراً ہما را کاروبار درہم و برہم ہو جائے گا۔لیکن خواہ اس کی کچھ نیت ہو مگر اب یہ واقعہ ضرور ایڈیٹر اہل حدیث کو اس خطبہ کے ذریعہ سے انشاء اللہ پہنچ جائے گا۔اور اس سے اس خط لکھنے والے کو بھی تسلی ہو جائے گی اور اس کا یہ سہارا بھی ٹوٹ جائے گا کہ اگر ایڈیٹر اہل حدیث کو یہ خبر