خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 380

٣٨٠ حتی کہ اس کے انبیاء بھی ان تمام خواہشوں سے حصہ لیتے ہیں جو ان میں رکھی گئی ہیں۔لیکن وہ چیز جو اس نے زیادہ پسند کی ہے کہ بندے بھی اس کو پسند کریں۔وہ اس کا دین ہے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ بھی اس کو زیادہ پسند کرے۔ہمارے ملک میں پلاؤ سب سے اچھا کھانا سمجھا جاتا ہے جس طرح میزبان نہیں چاہتا کہ مہمان پلاؤ کو چھوڑ کر چٹنی کھائے۔یا خشک روٹی کھائے۔گو وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ یہ بالکل نہ کھائے بلکہ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ تمام کھانوں میں سے خاص کھانے کی طرف زیادہ توجہ کرے۔اسی طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لئے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان سب کی طرف توجہ کرے مگر خصوصا دین کی طرف زیادہ توجہ کرے لیکن انسان اور خدا کی دعوت میں ایک فرق ہے کیونکہ انسان جس شخص کی دعوت کرتا ہے وہ اس کے متعلق پورا واقف نہیں ہوتا۔اس لئے وہ اپنی دانست میں ایک عمدہ چیز پکواتا ہے مثلاً پلاؤ ہی تیار کرواتا ہے۔لیکن بہت سے لوگ ہیں جن کو بوجہ معدے کے کمزور ہونے کے چاول ہضم نہیں ہوتے۔مگر میزبان نے اس کے لئے پلاؤ یا اور عمدہ کھانا پکایا ہوتا ہے مہمان اس کو نہیں کھا سکتا۔اور وہ صرف شوربے اور چپاتی ہی کو کھاتا ہے۔کیونکہ اگر وہ پلاؤ وغیرہ کھائے تو اس کو تکلیف ہوگی۔اس صورت میں کوئی حرج نہیں اگر انسان اپنے میزبان کی دعوت میں سے عمدہ چیز کو چھوڑ دے۔کیونکہ وہ اس کو کھانے سے معذور ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی دعوت میں یہ بات نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے جس چیز کو زیادہ پسند کیا ہے وہ واقعی بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور سب چیزوں سے افضل اور بندے کے لئے مفید ہے۔مگر بہت لوگ ہیں جو مذہب کی محبت کا دعوی کرتے ہوئے پھر اس سے غافل ہوتے ہیں۔اور دنیا کی خاطر دین کو قربان کرتے رہتے ہیں۔دنیا کی اشیاء میں بھی فرق ہوتا ہے ایک کو ایک چیز زیادہ پسند ہوتی ہے۔اور دوسرے کو دوسری بعض لوگ علوم دنیاوی کو ہر ایک چیز پر مقدم کرتے ہیں بعض کو مال سب سے زیادہ پسند ہوتا ہے بعض کو عزت، مثلاً اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ تو ہزار روپیہ لے لے اور بازار میں جوتیاں کھالے تو وہ کبھی پسند نہیں کرے گا۔اور اکثر لوگ آرام کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔طالب علم بے شک آرام قربان کر کے علم حاصل کرتا ہے مگر اصل منشاء یہ ہوتا ہے کہ تھوڑا آرام قربان کرکے زیادہ آرام حاصل کرے۔لیکن ان تمام دنیاوی نعمتوں سے زیادہ دین ہے ان اشیاء میں سے انسان اپنی خواہش کے مطابق چن سکتا ہے۔مگر دین کو مقدم کرنا اس کا فرض ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ انسان اپنی تمام توجہ دنیا ہی میں خرچ نہ کرے بلکہ دنیا کی طرف بھی توجہ کرے مگر دین کی طرف زیادہ۔