خطبات محمود (جلد 7) — Page 377
21 ۳۷۷ سکتی۔اور شریعت کے لئے اخلاق کو رکھا ہے۔عقل ہندؤں کو بھی دی گئی ہے۔اور وہ بچے مذہب کے دلائل کو عقل سے معلوم کر سکتے ہیں۔جب بچے دلائل پیش ہوتے ہیں تو عقل اپیل کرتی ہے کہ ان کو تسلیم کیا جائے۔اسی طرح جو عملی زندگی ہے اور جس کا شریعت ہی سے تعلق نہیں۔گو شریعت بھی اس کی تعلیم دیتی ہے۔اس کی تصدیق کے لئے سب مذاہب کے لوگوں میں اخلاق رکھے گئے ہیں۔جب وہ دوسرے کی اخلاقی حالت کو دیکھتے ہیں تو ان پر اثر ہوتا ہے۔جس طرح دلائل کے لئے عقل ذریعہ ہے۔اسی طرح اعمال کے لئے اخلاق ذریعہ ہے۔اس لئے میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرد۔یہ بڑی بات نہیں کہ جھوٹ نہ بولو۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ خطرناک حالات میں بھی سچ بولو۔یہ نہیں کہ دوسروں کے حقوق نہ مارو۔بلکہ اگر اپنے حقوق بھی چھوڑنے پڑیں تو چھوڑ دو تا لوگ دیکھیں کہ تم میں اوران میں فرق ہے۔کیونکہ یہی ایک بات ہے۔جس سے وہ مذہب کی خوبی کو دیکھ سکتے ہیں ان کی مذہب کی آنکھ نہیں۔اخلاق کی آنکھ ہے۔گو کمزور ہے۔مثلا تم کو ایک رنگ نظر آتا ہے اور دوسرے کو وہ مطلق نظر نہیں آتا۔وہ اس کا قائل نہیں ہو سکتا۔البتہ وہی رنگ اگر دوسرے کو دھندلا سا نظر آتا ہے۔جس کو تم صاف صاف دیکھتے ہو تو وہ اس کو سمجھ سکتا ہے۔اور تم اس کو منوا سکتے ہو۔جب تم نصوص لے کر جاؤ گے تو وہ نہیں مانے گا لیکن جب اخلاق کے ساتھ جاؤ گے تو وہ تمہارا قائل ہو جائے گا۔تم اخلاق کے ذریعہ آزمائے جاتے ہو۔کہ تم میں یہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہیں یا نہیں لوگوں کو تمہاری روحانیت کے آزمانے کا موقع نہیں ملا وہ پہلے تمہارے اخلاق کو دیکھتے ہیں۔اس لئے تمہاری روحانیت ان کے لئے اتنی مفید نہیں۔جس قدر تمہارے اخلاق ان کو ہدایت کی طرف لانے میں محمد ہو سکتے ہیں اس لئے پہلا قدم جس کے ذریعہ تم تبلیغ کر سکتے ہو یا پہلا قدم جس کے ذریعہ تم اپنی روحانی حالت کی اصلاح کر سکتے ہو اور پھر خیر کو بھی کھینچ سکتے ہو۔وہ اخلاق ہیں۔اللہ تعالی توفیق دے تاکہ تم اس بارے میں نمایاں تبدیلی کرو۔مخالف تمہارے اخلاق کو دیکھے تو محسوس کرے خواہ مانے یا نہ مانے۔دشمن کی آنکھ پہلے اخلاق کو دیکھتی ہے۔اللہ تعالٰی تبدیلی کی ے۔تاکہ یہ اخلاقی حالت کی اصلاح ہمارے لئے اور ان کے لئے مفید ہو۔جن کو ہدایت نہیں پہنچی۔مگر وہ ہدایت کے منتظر ہیں۔، مشکوۃ باب البعث و بدء الوق ۲ سیرت ابن ہشام جلد اول ص ۲۷۰ (الفضل ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۲ء)