خطبات محمود (جلد 7) — Page 376
محبت کرنے لگا تھا۔میں نے اس کو نرمی سے سمجھایا کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔اور یہ اچھی بات نہیں۔لیکن وہ رو رہا تھا۔یہ ایک سکھ کی حالت ہے۔جو حضرت صاحب کے ابتدائی حالات سے واقف ہے۔کیونکہ وہ اپنے والد کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا۔وہ حضرت مسیح موعود کی کتب نہیں پڑھا ہوا وہ معجزات کو نہیں جانتا۔لیکن جب وہ آتا تھا۔تو دیکھا کہ آپ کے اخلاق کس قسم کے ہیں۔ہے تو وہ سکھ ہی لیکن آپ کے اخلاق نے جو اثر اس کے دل پر کیا ہے وہ دور نہیں ہوتا۔جس زمانہ میں پادری مارٹن کلارک نے حضرت مسیح موعود کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا۔تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کے خلاف شہادت دینے کے لئے گئے۔اس حالت میں یہ توقع نہیں ہو سکتی تھی کہ ایک مسلمان عیسائیوں کا ساتھ دے گا۔مگر واقعہ یہی ہوتا ہے کہ ایک مسلمان مولوی عیسائیوں کے لئے جھوٹے مقدمہ میں گواہی دیتا ہے۔اس وقت حضرت صاحب کے وکیل نے جو ایک غیر احمدی تھا مولوی محمد حسین صاحب کی پیدائش کے متعلق ایک ایسا سوال کرنا چاہا جس سے مولوی صاحب پر سخت زد پڑتی تھی لیکن آپ نے وکیل کو اس سوال کے کرنے سے روک دیا۔وکیل نے پھر یہ سوال کرنا چاہا کیونکہ وہ مولوی صاحب کی حیثیت کو توڑنے والا تھا۔مگر آپ نے روک دیا۔کہ اس اندرونی راز سے ان کا کیا تعلق۔نہیں معلوم وہ وکیل اب زندہ ہے یا نہیں لیکن آج سے پانچ چھ سال پہلے تک وہ زندہ تھا۔اور مشہور آدمیوں میں سے تھا۔اور سلسلہ کا سخت دشمن تھا۔اور بحث میں بتا دیتا تھا کہ میں سخت مخالف ہوں۔مگر کہتا تھا کہ میں نے مرزا صاحب جیسا با اخلاق آدمی نہیں دیکھا۔ایسا موقع کہ سخت دشمن ایک سوال میں خاموش ہو سکتا ہے۔آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور روک دیتے ہیں۔یہ چیزیں ہیں جو لوگوں پر اثر کرتی ہیں۔اس کے بغیر کچھ نہیں۔کیونکہ مخالف پر وہی بات اثر کرتی ہے جو دنوں میں مشترک ہو۔مسلمان اگر عیسائی کے سامنے قرآن کریم پیش کرے تو اثر نہیں ہوگا۔اور اگر عیسائی بائبل مسلمان کو سنائے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔ایک آریہ دشمن نے جو مر چکا ہے قرآن کی آیات اهدنا الصراط المستقيم کے معنی ایک طبی اصطلاح ایک انٹری کے متعلق لیکر یہ کئے ہیں کہ اس میں بدفعلی کی دعا کی گئی ہے۔برخلاف اس کے ایک مسلمان جب بسم اللہ کی بسم ہی پڑھتا ہے تو اس کی گھگی بندھ جاتی ہے اور اهدنا الصراط المستقیم تک پہنچتے پہنچتے اس کی حالت ہی اور ہو جاتی ہے۔جو اعمال خالص شرعی ہیں فطری نہیں ان کی تصدیق اخلاق سے ہوتی ہے۔خدا کا کلام اور دیگر ایسے ہی مسائل کے لئے عقل کو خدا نے رکھا ہے۔اگر عقل نہ ہوتی تو ان مسائل کی تصدیق نہ ہو