خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 378

71 دنیا پر دین کو مقدم رکھیں (فرموده ۱۳ اکتوبر ۶۱۹۲۲ تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔انسان کی پیدائش کے ساتھ ایسی ضروریات اس کے ساتھ لگا کر جن کے بغیر اس کی زندگی قائم نہیں رہ سکتی اور جن ضروریات کے پورا ہوئے بغیر اس کو اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کا ایک کام یہ بھی ہے کہ دنیا میں رہ کر اس پر غور کرے اور مادی ترقیات میں بھی اپنی طاقتوں کو خرچ کرے مثلاً انسان اگر کھانے پینے کا محتاج نہ ہو۔یا اگر اس کی زبان میں مزا نہ رکھا جاتا تو سینکڑوں قسم کے کھانے جو ایجاد ہوئے ہیں انکی کوئی قدر نہ کرتا۔یہ نہیں ہوتا کہ آسمان سے لسٹ بن کر آجائے کہ فلاں ملک میں فلاں غلہ پیدا ہوتا ہے اور فلاں ملک میں فلاں۔بلکہ انسان محنت اور توجہ اور غور سے دریافت کرے کہ فلاں ملک میں کونسا غلہ ہوتا ہے۔اور فلاں غلہ کس جگہ زیادہ پیدا ہوتا ہے۔یہ تمام پھل، پھول، غلے، ترکاریاں، مونگ، ماش، موٹھ وغیرہ کس طرح دریافت ہوئے اسی طرح کہ انسان زبان کے مزے کے لئے ان چیزوں کو دیکھتا تھا۔جو چیزیں اچھی معلوم ہوتیں ان کو کاشت کرنے کے ذرائع سوچتا اور معلوم کرتا تھا۔اور کرتا ہے۔پہاڑ پر جاؤ وہاں پر طرح طرح کی بوٹیاں اگی ہوئی ہوں گی کئی دیکھنے والوں کا دل چاہتا ہے کہ ان کو چکھ کر دیکھیں۔اور اس طرح کئی اور کھانے کی چیزیں معلوم ہو جاتی ہیں۔یا بعض بوٹیوں کے کھانے سے جو جسم پر اثر ہوتا ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ فلان فلاں مرض میں مفید ہو سکتی ہیں۔جتنے درخت اور پھل ہیں وہ اسی طرح معلوم ہوئے کہ پہلے ان کو زبان کے مزے کے لئے چکھا گیا۔اور پھر ان کو کاشت کرنے کے ذرائع معلوم کئے گئے۔انسان کی ابتدائی حالت بالکل بچے کی حالت کے مشابہ ہے۔جس طرح بچے کے سامنے جو چیز آتی ہے وہ اس کو منہ میں ڈال لیتا ہے۔اسی طرح انسان کی بھی یہی حالت تھی کہ وہ ہر ایک چیز کو منہ میں ڈالتا اور اس کے متعلق تجارب کرتا تھا۔ان تجارب کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں جسم کے پھل اور غلے اور کھانے نکل آئے۔-