خطبات محمود (جلد 7) — Page 375
۳۷۵ کیا۔بلکہ آپ کی اس زندگی نے اثر کیا جو آپ نے قبل دعوئی ان لوگوں میں گزاری۔جب آپ نے دعوی کیا تو چونکہ مکہ عرب کے لوگوں کا مرکز تھا اس لئے وہاں کے چند سر بر آوردہ لوگوں نے جمع ہو کر تجویز کی کہ باہر سے لوگ آئیں گے۔اگر ہم ان کو آپ کے متعلق مختلف باتیں بتائیں گے تو ہماری رائے کو غلط سمجھیں گے۔چاہئیے کہ مل کر ایک فیصلہ کریں۔اور وہی جواب دیا کریں۔ان میں سے ایک شخص نے جواب دیا کہ ہم کہہ دیا کریں کہ وہ جھوٹا ہے۔اسی وقت دوسروں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم نے اس کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔اور ہم اس کو صادق اور امین کے طور پر ہی پیش کیا کرتے تھے۔اب اس کو جھوٹا کیسے کہیں گے وہ لوگ تو ہمیں کو ملزم کہیں گے۔۲۔یہ چیز تھی جو ان کو جھکائے ہوئے تھی۔اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے متعلق یہی حال ہے سکھ لوگ حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھے ہوئے نہیں۔مگر آپ کے اخلاق اور خوبیوں کا ان پر یہ اثر ہے کہ جو بوڑھے ہیں وہ خود بتاتے ہیں۔اور جو جوان ہیں وہ اپنے باپ دادے کی روائتیں سناتے ہیں کہ مرزا صاحب تو بچپن ہی سے ولی اللہ تھے اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آپ کو الہام ہوتے تھے اور وہ اس کے قائل ہیں۔بلکہ وہ آپ کے سلوک کو دیکھتے تھے کہ آپ کے بڑوں کا جو طور طریق تھا اس کے خلاف آپ کا طریق اسلامی طریق تھا۔وہ لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ آپ نمازیں پڑھتے تھے۔وہ دیکھتے تھے کہ آپ لوگوں کی ہمدردی کرتے تھے ، جھوٹ نہ بولتے تھے، دوسروں سے نرمی اور مردت اور سلوک سے پیش آتے تھے۔کیا وجہ تھی کہ آپ نے بار بار لکھا کہ کوئی کھڑا ہو اور میرے ابتدائی حالت کے متعلق کوئی بری بات کہے۔گو یہاں ہر قسم کے لوگ تھے۔مگر کسی نے آپ کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔یہ آپ کے اخلاق ہی تھے کہ لوگ ان کے سامنے کوئی عیب نہیں لگا سکتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ میں لکھا تھا کہ مرزا صاحب نے اسلام کی روحانی اور اخلاقی وغیرہ وہ خدمت کی ہے جو تیرہ سو برس میں کسی نہیں کی۔یہاں ایک قریب کا ہلواں گاؤں ہے۔وہاں کا ایک بوڑھا سکھ جب ملنے آتا ہے تو آنسو اس کی آنکھوں سے نکل آتے ہیں۔اور کہتا ہے کہ مرزا صاحب ہم سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ہمارے نزدیک قبروں کو بوسہ دینا اور سجدہ کرنا شرک ہے اور گناہ ہے۔لیکن وہ ایک دفعہ حضرت صاحب کی قبر پر گیا اور وہاں سجدہ کرنے لگا۔ایک احمدی وہاں موجود تھا۔اس نے روک دیا۔وہ میرے پاس آیا۔اور دور ہی سے چیخ مار کر رو پڑا اور کہا کہ مجھ پر احمدیوں نے ظلم کیا ہے۔میں نے سمجھا کہ کسی احمدی نے کسی معالمہ میں اس پر کچھ زیادتی کی ہوگی۔میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔تو اس نے کہا کہ مجھے قبر پر متھانہ ٹیکنے دیا۔تمہارے مذہب میں برا ہو۔لیکن میں تو اپنے طریق پر اظہار۔