خطبات محمود (جلد 7) — Page 342
ا مهم سالم موسم نبیوں اور ان کے قرب کے زمانے میں ہوتا ہے۔اس موسم میں اللہ تعالیٰ کثرت سے روحانی ثمرات پیدا کرتا ہے۔موسم کی یہ حالت ہوتی ہے کہ دانہ ڈالا اور وہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں محنت زیادہ برداشت نہیں کرنی پڑتی۔مگر غیر موسم میں بہت مشکل ہوتی ہے۔اسی طرح نبیوں کے زمانے میں وہ روحانی علوم بھی کثرت اور آسانی سے مل سکتے ہیں۔اور دوسرے زمانوں میں گومل تو سکتے ہیں مگر بڑی محنت اور سخت مشکل۔یہ روحانی موسم اللہ نے ہماری جماعت کو بھی دیا ہے۔ہم نے اللہ تعالیٰ کے ایک مامور اور مرسل کا زمانہ پایا ہے۔گو وہ اس وقت ہم میں موجود نہیں۔مگر اس کا زمانہ بہت قریب ہے۔یاد رکھو کہ زمانے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک اصل موسم ہوتا ہے۔اور ایک موسم کے ساتھ کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ زمانہ جو موسم کے ساتھ ہوتا ہے گو اس میں اس کثرت سے وہ چیز میسرنہ ہوتی ہو۔لیکن دوسرے زمانوں سے زیادہ مل سکتی ہے۔اسی طرح گو حضرت مسیح موعود کا زمانہ گزر گیا لیکن ابھی آپ کے قرب کا زمانہ ہے۔انبیاء کے یا کم از کم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کے زمانہ اور موسم تین سو سال کے زمانے ہیں۔مگر یہ ظاہر ہے کہ ہر سال اس زمانہ سے دور لے جاتا ہے۔اور ہر ایک ساعت ہم کو دور کر رہی ہے جو جو زمانہ گزر رہا ہے۔وہ ہمیں اصل زمانہ سے دور کرتا جاتا ہے۔اس حالت میں ہمارا کیا فرض ہے۔یہی کہ ہم اس زمانہ اور - موسم سے فائدہ اٹھائیں۔اگر اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو پھر وہ چیز جو آسانی سے مل سکتی ہے۔بہت مشکل اور بڑی کوشش کے بعد حاصل ہو سکے گی۔اور جو لوگ اس وقت کو کھو دیں گے ان کو پچھتانا ہو گا۔اور اس کا الزام ان پر ہوگا نہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیوں پر پس یہ زمانہ غنیمت ہے۔کیونکہ نبی کے قریب کا زمانہ ہے اس لئے اس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔آج جو چیز آسانی سے ہر ایک شخص کو نبیوں کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔وہ دوسرے وقت میں مل سکتی ہے مگر انفرادی طور پر سخت کوشش کے بعد۔اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کے گھر میں حقہ پانی ڈال آئے اور ایک خود بھرے۔پس اسی طرح نبیوں کی مثال سقہ کی ہے جو روحانیت ڈال دیتے ہیں۔پس اس وقت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کو رائیگاں نہ جانے دو۔الفضل ۲۱ / اگست ۱۹۲۲ء)