خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 341

المرسو 63 روحانیت کا موسم (فرموده ۱۱ اگست ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔دنیا میں ہر ایک چیز کے موسم ہوتے ہیں۔اس موسم کے باپ پر اگر اس چیز کو تلاش کریں یا اس کو پیدا کرنے کی کوشش کریں تو نہیں ہوگی۔اس بات میں کئی حکمتیں رکھی گئی ہیں۔موسم میں بھی عبرت ہے۔ایک تو یہ ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اگر انسان پیدا کر سکتا تو ہر چیز کو ہر موسم میں کیوں نہ پیدا کر لیتا۔دیکھ لو مل اور ماش وغیرہ کے موسم میں گیہوں نہیں ہوتی۔اور گیہوں کے موسم میں تل ماش وغیرہ نہیں ہوتے۔پس موسموں میں ان چیزوں کا پیدا ہونا اس امر کی طرف دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان چیزوں کو پیدا کرتا ہے اور اس نے مقدر کر دیا ہے۔کہ فلاں چیز فلاں وقت پیدا ہو۔اور وہ اسی وقت پیدا ہوتی ہے۔اور انسی ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔جن ذرائع سے اس کا پیدا ہونا مقدر ہوتا ہے۔دوسری عبرت ان موسموں سے یہ پیدا ہوتی ہے کہ اگر انسان کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے تو موسم سے فائدہ اٹھائے۔بعض چیزیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ وہ دوسرے موسم میں مطلق ہوتی ہی نہیں۔اور بعض ہوتی ہیں۔مگر بہت تھوڑی اس افراط سے نہیں جس سے وہ اپنے موسم میں پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً آم ہے۔اس کی کئی قسمیں ہیں ایسے بھی ہوتے ہیں جو ابھی دو مہینہ کو پکیں گے۔اور ایسے بھی جو چار مہینہ کو پکیں گے۔لیکن جب اس کا موسم گذر جاتا ہے تو اس کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ یہ سال کے ہر حصہ میں مل سکتا ہے۔اور ملتا ہے۔مگر بہت تھوڑا اور بہت قیمت پر لیکن جب اس کا موسم ہوتا ہے تو اس افراط سے ملتا ہے کہ اچھے سے اچھا آم نہایت سستے داموں مل جاتا ہے۔اور ادنیٰ قسم کے آم تو ایک پیسہ کے کنی کنی مل جاتے ہیں۔تو بے موسم کی چیز ملتی ہے مگر مشکل سے اور موسم میں ملتی ہے نہایت آسانی سے۔ہمارے لئے بھی خدا نے ایک موسم پیدا کیا ہے۔کیونکہ دین کے لئے بھی موسم ہوتا ہے۔اور