خطبات محمود (جلد 7) — Page 258
۲۵۸ 48 رمضان المبارک فرموده ۲۸ / اپریل ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۂ بقرہ کا تیئسواں رکوع پڑھ کر فرمایا۔اللہ تعالی کے فضل اور احسان ہیں لوگوں پر کہ اس نے باوجود اپنی عظمت باوجود اپنی شان اور باوجود علو مرتبت کے انسان جیسی حقیر، کمزور ناتواں اور بے حقیقت مخلوق کے لئے جو اس کی پیدائش اور مخلوق کی وسعت کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی۔اس کے لئے اپنے فضل اور احسان سے ایسے سامان مہیا کر دئے ہیں کہ جن کے ذریعہ تمام مخلوق سے بلند ہو کر اپنے خالق کا قرب حاصل کر لیتی ہے۔بلکہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا خاص فضل انسان کی دستگیری نہ کرتا۔اگر خدا تعالی کا رحم مدد نہ کرتا اگر اس کی بندہ پروری آڑے نہ آتی تو انسان کی کیا مجال تھی کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر سکتا۔چھوٹی چھوٹی دنیاوی ترقیات کے حصول کے لئے انسان کو بڑی بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو بادشاہوں اور گورنروں کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔پھر کتنے ہیں جو اپنے ضلع کے حاکموں کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔نہایت قلیل تعداد بادشاہوں کے قرب کا فخر رکھتی ہے۔پھر نہایت محدود تعداد ہوتی ہے جو گورنروں اور وزیروں کے درباروں میں پہنچ سکتی ہے۔پھر وہ بھی محدود تعداد ہی ہوتی ہے جو گورنروں کے نابوں کے ہاں عزت حاصل کر سکتے ہیں۔مگر ان بادشاہوں ان گورنروں اور ان کے تابوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی جو شان ہے اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔بڑے بڑے بادشاہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں کہ ان کے نائبوں کے متعلق کچھ کہا جائے۔اللہ تعالیٰ کے ایک حکم سے بادشاہ بنتے ہیں اور ایک حکم سے فتا ہوتے ہیں۔اسے نہ بادشاہ بنانے میں کسی قسم کی محنت اور سعی کرنی پڑتی ہے نہ ان کے ہٹانے میں کسی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ بادشاہتیں بھی دیتا ہے تو اس طرح دیتا ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔اور مٹاتا ہے تو اس طرح مٹاتا ہے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معمولی تاجر یا معمولی زمیندار تھے۔اور سارے زمیندار نہ تھے بلکہ مدینہ کے لوگ تھے۔مگر خلافت پر متمکن ہونے والے تجارت پیشہ تھے۔جن میں