خطبات محمود (جلد 7) — Page 259
۲۵۹ بڑے سے بڑے تاجر ۸-۱۰ ہزار کے مالک تھے جس سے زیادہ آجکل معمولی گاؤں کے سا ہو کاروں کے پاس ہوتا ہے مگر انہوں نے خدا کے لئے اپنے مالوں اور اپنی جائدادوں اپنے عزیزوں اپنے وطنوں اپنے آراموں کو چھوڑا۔اور دنیا نے دیکھا کہ وہ پہلے معزز تھے لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر ذلیل ہو گئے وہ پہلے دولت مند تھے۔لیکن آپ کو مان کر غریب ہو گئے۔وہ پہلے جائدادیں رکھتے تھے آپ کو مان کر بے وطن ہو گئے۔گویا وہ دنیا کی نظروں اور عقلوں میں بجائے ترقی کرنے کے گر گئے لیکن چونکہ انہوں نے اپنے نفسوں میں فیصلہ کر لیا تھا کہ ہماری عزتیں ہمارے رہتے ہمارے مال ہماری جائیداد ہمارے عزیز اور ہمارے رشتے سب رسول کریم سے وابستہ ہیں اس لئے آپ کی معیت حاصل کرنے کے لئے انہیں جو کچھ بھی چھوڑنا پڑا چھوڑ دیا اور اس کی ذرا پرواہ نہ کی۔کچھ تو وہ تھے جن کے پاس کچھ تھا اور انہوں نے چھوڑ دیا اور کچھ ایسے تھے جن کے پاس تو کچھ نہ تھا۔مگر وہ اپنے دلوں میں یہ خواہش لیکر آئے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کچھ ہو تا تو آج ہم بھی قربان کرتے۔ان کے اعمال ثابت نہیں کرتے کہ انہوں نے قربانی کی۔کیونکہ ان کے پاس کچھ تھا نہیں۔لیکن ان کے دل جوش قربانی سے بھرے ہوئے تھے تو یہ دو قسم کے لوگ تھے جو دنیا کی نظروں میں بہت حقیر اور ذلیل تھے۔مگر خدا نے فیصلہ کیا کہ اب ان کو ترقی دوں گا۔اور دنیا کا بادشاہ بناؤں گا۔چنانچہ وہی ابو بکر جو معمولی تاجر تھے۔انہیں بادشاہ بنا دیا اور بادشاہ بھی ایسی قوم کا بنایا جو کسی کو بادشاہ ماننے کے لئے کبھی تیار نہ ہوئی تھی عرب کے لوگ کسی کو بادشاہ نہ مانتے تھے۔ان لوگوں کے دو حصے تھے ایک شہری اور دوسرے بددی۔شہری علاقوں میں تو بادشاہ تھے جیسے غسان وغیرہ علاقوں کے بادشاہ لیکن اصل عرب میں بادشاہ نہ ہوتے تھے۔اور نہ وہ لوگ کسی کی اطاعت کرنا جانتے تھے۔اور نہ کسی کی اطاعت کرنا جائز سمجھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ بڑے بڑے فاتحوں نے عرب کی طرف کبھی منہ نہ کیا۔حتی کہ سکندر جو ہندوستان تک فتح کرتا چلا آیا۔اس نے بھی عرب کی طرف رخ نہ کیا۔کیونکہ اسے بتایا گیا کہ وہ لوگ مر جائیں گے لیکن اطاعت نہیں کریں گے۔ایک واقعہ مشہور ہے ایک بادشاہ تھا عرب کے اس حصہ کا جو شہری تھا۔اس نے عرب کے لوگوں پر مال وغیرہ کے ذریعہ تصرف حاصل کر لیا تھا۔ایک دفعہ اس نے اپنے دربار میں ذکر کیا۔شکار کھیل کر آیا تھا۔دوستوں سے کہنے لگا کیا کوئی ایسا سردار عرب میں ہے جو میری اطاعت نہ کرے اور میری اطاعت کرنا اپنے لئے ہتک سمجھے۔کسی نے کہا ہاں ایسے لوگ ہیں بادشاہ نے کہا کسی کا نام لو۔نے کہا اس کا نام عمرو بن کلثوم ہے۔بادشاہ نے کہا اسے بلاؤ۔پیغام بھیجا گیا اور وہ چلا آیا اسے یہ بھی لکھا کہ میری والدہ آپ کی والدہ سے ملنا چاہتی ہے ان کو بھی ساتھ لے آئیں وہ اپنی والدہ کو بھی ساتھ لے آیا۔جب وہ پہنچا تو بادشاہ نے کہا اس کا امتحان لینا چاہیے میری کوئی بات مانتا اس الشخص