خطبات محمود (جلد 7) — Page 236
بلکہ ہمیشہ ہمیش ملتا رہے گا۔گویا اس جہان میں انسان خدا کا ظل ہو جائے گا۔کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ پر فنا نہیں اسی طرح ایک رنگ میں اس انسان پر فنا نہیں ہوگی۔گو اصلی ذات خدا تعالیٰ ہی کی ہے جسے بقا حاصل ہے۔مگر انسان کو بھی ایک شکل بقا کی حاصل ہو جائے گی اور انسان خدا میں ہو کر رہے گا۔مگر خیال تو کرد که ایسا انعام کس کام کے نتیجہ میں ملتا ہے۔اسی کام کے نتیجہ میں جو دس پندرہ ہیں سال کے قلیل عرصہ میں کیا جائے گا۔پھر کیا یہ سارے سال خدا کے لئے خرچ کئے جاتے ہیں۔شاذ و نادر لوگوں کے سوا باقی سب لوگوں کے بہت سے اوقات لغو باتوں میں خرچ ہوتے ہیں۔عبادتوں یا خدا کے دین کی خدمت کا وقت دو یا تین گھنٹے دن میں بنتا ہے۔اس طرح کام کرنے کا جزو اور بھی قلیل رہ جاتا ہے اور جتنا عرصہ کام کرنا تھا وہ بھی سارے کا سارا انسان دین میں نہیں لگاتا۔مگر دیکھو اس آٹھ دس سال کے کام کے بدلے میں ایسی عظیم الشان برکات حاصل ہونگی کہ جن کا کبھی خاتمہ ہی نہ ہو گا۔حتی کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے وہم میں بھی اس جنت کا نقشہ نہیں آسکتا۔زمانہ کی وسعت کے لحاظ سے تو اس کے متعلق یہ ہے کہ جنت غیر محدود نہ کٹنے اور نہ ختم ہونے والا انعام ہے۔اور انعام کی وسعت کے لحاظ سے یہ ہے کہ اس میں اتنی وسعت اور اتنی انواع ہیں کہ انسان کو ان کا پتہ ہی نہیں لگ سکتا۔کیونکہ انسان کی نظر دنیا کی نعمتوں تک ہی پہنچتی ہے۔اور دنیا کی نعمتوں کو جنت کی نعمتوں سے کچھ نسبت نہیں۔اتنے بڑے اور ایسے عظیم الشان انعام اتنے قلیل زمانہ کی خدمات کے بدلے ملتے ہیں۔ذرا غور کرو کیا قربانی ہے جو ان انعامات کے لئے انسان کرتا ہے۔دنیا کے کاموں پر ہی نظر کرو۔ایک انسان پندرہ سولہ سال پڑھتا دن رات محنت کرتا ہے۔اور اتنے سال کی محنت کے بعد اس کی عمر پچیس تمہیں سال تک پہنچ جاتی ہے۔اس کی ساری عمر اگر ساٹھ سال قرار دی جائے تو گویا وہ تمہیں سال کی عمر میں فائدہ اٹھانے کے لئے بچتیں تیس سال محنت کرتا ہے۔اور پھر اتنا عرصہ پڑھنے کے بعد بھی مال و دولت خود بخود اس کے گھر میں نہیں آجائے گا۔اور وہ محنت جو اس نے پڑھنے میں کی۔وہ کافی نہ ہوگی۔بلکہ پھر بھی اسے محنت کرنی پڑے گی۔پس ایک انسان اپنی عمر کے پندرہ سولہ سال آئندہ عمر تمیں چالیس سال کے لئے خرچ کرتا ہے۔پھر وہ انعام جس کی وسعت کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اور جس کے زمانہ کی کوئی حد بندی نہیں کر سکتا۔اس کے لئے جس قدر بھی قربانی کی جائے کم ہے۔لیکن عام طور پر چونکہ لوگوں کو اس انعام پر یقین نہیں ہوتا۔اس لئے اس کے واسطے وقت صرف نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں۔تو اس شوق سے نہیں جس شوق سے دنیاوی امور کے۔لئے عمر ضائع کرتے ہیں۔ضائع میں اس لئے کہتا ہوں کہ عمر ختم ہو جانے والی چیز ہے۔اور جن