خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 235

۲۳۵ 45 اپنے کام کے مقابلہ میں خدا کے انعام پر نظر کرو (فرموده ۲۴ ر مارچ ۶۱۹۲۲ ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔انسانی زندگی کا دور نہایت ہی محدود ہے۔اور اتنا محدود ہے کہ کائنات زمانہ کی وسعت پر نظر ڈالتے ہوئے انسانی زندگی کو سمندر کے حساب کی طرح بھی قرار نہیں دے سکتے۔ایک وسیع سمندر میں جو حباب پیدا ہوتا ہے۔اور سمندر کے ساتھ اس کی جو نسبت ہوتی ہے۔اتنی نسبت بھی انسانی زندگی کو کائنات کی وسعت کے ساتھ نہیں ہے۔پھر ایسے محدود دور کے لئے جو انعامات اللہ تعالٰی نے مقرر کئے ہیں۔ان کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کیسی رحیم و کریم وہ ذات ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور جو ہم پر انعامات کرتی ہے۔ہمارے زمانہ میں لوگوں کی عمریں پچاس ساٹھ ستر اور زیادہ سے زیادہ سویا سوا سو سال ہوتی ہیں۔لیکن اگر ڈیڑھ سو سال بھی عمرمان لی جائے۔جو شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔اور ایک صدی میں ایک یا دو انسان اس عمر کو پہنچتے ہیں تو بھی اس میں سے پچاس سال سونے میں گذر جاتے ہیں۔پھر اگر اس میں سے نابالغی کا زمانہ نکال دو تو اور بھی کم رہ جاتی ہے۔پھر کھانے پینے پیشاب پاخانہ کرنے میں جو وقت صرف ہوتا ہے۔وہ نکال دیا جائے تو اور کمی ہو جاتی ہے۔پھر انسان لغو باتوں میں جو وقت ضائع کرتے ہیں وہ نکال دیا جائے تو اور بھی کم ہو جاتی ہے۔اور اگر اوسط عمر ۷۰-۸۰ سال فرض کر لی جائے تب بھی اس عمر کے انسان کے کام کا زمانہ دس پندرہ یا ۲۰ سال سے زیادہ نہیں بنتا۔یہ ایسا زمانہ ہے جس میں انسان کچھ کام کرتا ہے اس کام کے بدلے میں خدا تعالی کی طرف سے کیا انعام مقرر کیا گیا ہے۔اس کو نہایت مختصر الفاظ میں قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ” جنات عدن" باغ ہونگے جس کے رہنے والے بھی ہمیشہ رہیں گے۔اور باغ بھی ہمیشہ اور ان کے پھل بھی ہمیشہ رہیں گے۔پھر فرمایا۔عطاء غیر مجذوذ (صور۱۰۹) ایسا انعام ہوگا جو کبھی نہیں کاٹا جائے گا۔کوئی وقت ایسا نہیں آئے گا۔جب یہ کہہ دیا جائے کہ اب انعام کافی مل گیا۔