خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 237

دنیاوی باتوں کے لئے خرچ کی جاتی ہے وہ بھی عارضی اور چند روزہ ہیں تو جس انعام کے لئے بہترین حصہ عمر خرچ کرتے ہیں وہ چونکہ نظر آتا ہے۔اس لئے اس میں تو بڑے شوق سے لگے رہتے ہیں۔لیکن دوسرے جہان میں ملنے والا انعام نہ انہیں نظر آتا ہے۔اور نہ اس پر انہیں یقین ہوتا ہے اس لئے اس کے لئے کچھ نہیں کرتے۔کسی طالب علم کو اگر یہ کہا جائے۔کہ دیکھو تمہاری پچاس سال عمر ہوگی۔اس سے کچھ تمہارے بچپن کا زمانہ گذر گیا۔اور پندرہ سولہ سال تک تم پڑھتے رہو گے۔اس طرح بچتیں تھیں سال عمر تک تم پڑھائی میں مشغول رہو گے۔اس کے بعد کہیں جا کر فائدہ اٹھاؤ گے۔اس لئے بہتر ہے کہ پڑھنا چھوڑ دو۔تو وہ کبھی یہ مشورہ قبول نہیں کرے گا۔اور یہ کہنے والے کو نادان سمجھے گا۔لیکن تعجب آتا ہے کہ اس انعام کے لئے جس کا کبھی خاتمہ نہیں اور جس کی وسعت کا اندازہ نہیں۔اس کے لئے لوگ تیاری نہیں کرتے۔یہ جتنی خرابی پیدا ہوتی ہے عدم یقین کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔انسان حقیقی طور پر سمجھتا ہی نہیں کہ مرنے کے بعد بھی وہ اٹھایا جائے گا۔اور جو لوگ یہ مانتے ہیں وہ بھی رسمی عقیدہ کے طور پر مانتے ہیں۔یقینی طور پر نہیں مانتے۔اور یقین اور عقیدہ میں بڑا فرق ہے۔عقیدہ کے متعلق تو عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے متعلق غور کرنا بھی ناجائز سمجھتے ہیں ورنہ جب لوگ معمولی معمولی باتوں کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو کیوں خدا تعالٰی کے لئے قربانی کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ دنیاوی باتوں کا انہیں حقیقی یقین ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی باتوں کو صرف عقید تا مانتے ہیں۔ان پر یقین نہیں رکھتے۔ماں باپ سے انہوں نے سنا ہوتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ ہے۔اس لئے وہ بھی کہتے ہیں۔خدا ہے۔ماں باپ سے سنا ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا ہے۔اس لئے وہ بھی کہتے ہیں۔اٹھنا ہے۔ماں باپ سے سنا ہوتا ہے۔بدیوں کے نتیجہ میں سزا ملے گی۔اس لئے بھی مانتے ہیں۔اور گو زبان سے ان باتوں کا اقرار کرتے ہیں۔مگر ان کی عقل اندر سے انکار کر رہی ہوتی ہے اور چونکہ وہ عقیدہ کے طور پر مانتے ہیں۔اس لئے عقیدت کی وجہ سے غور نہیں کرتے اور ڈرتے ہیں کہ اگر کیا تو ممکن ہے غلط نکل آئے۔ایسا کچا اور بودہ عقیدہ ان کا ہوتا ہے۔چنانچہ ہمارے آدمی جب کئی غیر احمدیوں کے پاس جاتے اور انہیں تبلیغ کرنے لگتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم تمہاری باتیں نہیں سننا چاہتے تاکہ ہمارا ایمان خراب نہ ہو جائے۔حالانکہ اگر ان میں فی الواقع ایمان ہو تا تو اس کے خراب ہونے کے کیا معنی۔کبھی ایمان بھی خراب ہوا کرتا ہے۔بات اصل میں یہ ہے۔کہ وہ جن باتوں کو مانتے ہیں صرف زبان سے مانتے ہیں۔ان کے دلائل ان کے پاس نہیں ہوتے۔اور انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر ان کے خلاف دلائل سنے تو چھوڑنی پڑیں گی۔اس لئے وہ سنتے ہی نہیں۔اور کہتے ہیں کہ سننے سے ہمارا ایمان خراب ہو جاتا ہے۔حالانکہ ایمان تو وہ چیز ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم