خطبات محمود (جلد 7) — Page 234
۳۳۴ سمجھیں لیکن ہماری جماعت کے لوگوں کی موجودہ حالات ایسی ہے جیسے ایک فوج کے افسر مقرر ہوں کرنل جرنیل۔اس پر سپاہی لڑائی چھوڑ کر بیٹھ رہیں کہ جرنیل جو مقرر ہو گیا ہے وہی لڑے گا۔کیا کوئی ایسی فوج کامیاب ہو سکتی ہے؟ جب تک ہر سپاہی یہ نہ سمجھے کہ ملک کو بچانے کی ذمہ واری اس پر بھی ویسی ہی ہے جیسے جرنیل پر ہے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔جرنیل کا کام تو یہ ہوتا ہے اور اس لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ سپاہی کو بتائے کہ اسے کہاں کھڑا ہونا چاہئیے۔اور کس طرح کام کرنا چاہئیے۔نہ یہ کہ سپاہی پر کام کی ذمہ داری نہیں رہتی۔اسی طرح مذہبی جماعت میں جب تک یہ احساس نہ ہو کہ اس کا ہر فرد اپنے آپ کو اشاعت اسلام کا ذمہ دار سمجھے۔اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی اور اس وقت تک اس کے تمام دعوے باطل اور تمام کامیابی موہوم ہے۔ہم میں سے ہر شخص سمجھ لے کہ اشاعت اسلام اسی کا کام ہے کسی اور کا نہیں ہے۔جب ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے تو کوئی چیز ان کے سامنے روک نہ بن سکے گی نہ ان کے سامنے مال نہ ان کے سامنے تکالیف نہ حکومتیں نہ فوجیں غرض کہ کوئی چیز نہ ٹھر سکے گی۔وہ ڈائنامیٹ کی طرح ہونگے۔جو پہاڑوں کو اڑا کر پھینک دیتا ہے۔گو وہ تھوڑے ہونگے لیکن بارود بھی تھوڑا سا ہی پہاڑ اڑا دیتا ہے۔یہ روح ہماری جماعت کو پیدا کرنی چاہیے۔اس کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی۔خدا تعالی ہماری جماعت کو توفیق دے کہ وہ اپنے فرض کو سمجھے۔اور ان میں ایسی روح پیدا ہو کہ ہر ایک فرد سمجھ لے کہ دین کی اشاعت کا ذمہ وار میں ہی ہوں۔اور اس کو پورا کرنے میں لگ جائے۔امتی الفضل ۲۳ مارچ ۱۹۲۲ء) ا بخاری کتاب التهجد باب قيام النبي صلى الله عليه وسلم حتى ترم قدماه