خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 210

۲۱۰ جو کہتے ہیں کہ اولاد کو ہم کیوں پرورش کریں۔وہ حکومت کے کام آتے ہیں۔حکومت ان کی پرورش کرے لیکن ابھی جہاں یہ خیال نہیں پھیلا وہاں اگر ایسے کہا جائے۔تو اسے جاہلانہ بات سمجھیں گے۔انسانی خیالات کے تغیرات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔تمام تغیرات اس بات کی علامت ہیں کہ کوئی بہت بڑا تغیر ہونے والا ہے۔اور کوئی عظیم الشان بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمام طاقتیں ابھر آتی ہیں۔قاعدہ ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو ہر قسم کی بوٹیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔قسم قسم کے درخت نکل آتے ہیں اور ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بارش کا اثر ہے۔اسی طرح زمانہ کے تغیرات جو ہو رہے ہیں یہ اس کی علامت ہیں کہ کوئی بڑی بارش خدا کی طرف سے ہوئی ہے۔ایسے وقت میں ہوشیار آدمی کا کام ہے۔وہ سوچتا ہے کہ میں اس بارش سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں یا نہیں یہ میرے لئے مفید ہے یا نہیں؟ اگر وہ مفید سمجھتا ہے تو پانی کو کھیت میں جمع کر لیتا ہے اگر مضر تو منڈیر توڑ کر نکال دیتا ہے۔ہم کیوں کر اس آسمانی بارش کے وقت اس تغیرات کے زمانہ میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔چونکہ ہم نے خدا کے مامور کو مانا ہے اس لئے یہ تو ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے لئے ہے۔کیونکہ یہ سب کچھ خدا نے مسیح اور اس کے سلسلہ کی ترقی کے لئے کیا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا پہلے اپنے مامور کو بھیجے اور اس کے ذریعہ ایک سلسلہ قائم کرے اور پھر اس کو خود ہی تباہ کر دے اور مٹا دے خواہ دنیا سوشلزم کی طرف چلی جائے کہ بچے سرکار پالا کرے۔خواہ تمام دنیا میں ایک حکومت ہو جائے خواہ حکومتوں کو تو ڑ کر ہر ایک شخص کو بالکل آزاد کر دیا جائے۔یہ سب درمیانی تغیرات ہیں اور مسیح موعود کی جماعت کے لئے مفید ہیں۔یہ ممکن نہیں کہ یہ تغیرات مسیح موعود کی جماعت کی ہلاکت کے واسطے ہوں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ مسیح موعود خدا کی طرف سے ہو اور اس کا سلسلہ مٹا دیا جائے۔کیونکہ جب کوئی شخص کسی کو اپنے باغ سے پھل لانے کے لئے بھیجے تو کبھی اس کے پھاڑ ڈالنے کے لئے کتے نہیں بھیجا کرتا۔اگر یہ بات ہے تو یہ تمام تغیرات سلسلہ احمدیہ کے لئے مضر نہیں خواہ بظاہر مضر ہی نظر آئیں۔انجام اچھا ہے۔اس کی ایسی مثال ہے کہ ماں باپ بچے کو آگ میں نہیں ڈالتے مگر کبھی کبھی سبق دینے کے لئے اس کی انگلی آگ کو لگا دیتے ہیں کہ اس سے آئندہ بچا رہے۔اسی طرح جو تغیرات اسلام اور سلسلہ کے لئے مضر نظر آتے ہیں۔یہ اس لئے ہیں کہ دنیا کو تمام طرفوں سے تھکا کر خدا تعالی اسلام کی طرف لائے اور دنیا دیکھ لے کہ اس نے جو رستے اپنی نجات کے بتائے تھے وہ دراصل ہلاکت کی طرف جاتے تھے۔اگر ان تغیرات کے بغیر اسلام کو مانتے تو ممکن ہے ان کے دل میں شک رہتا۔کہ شاید نجات اور بھلائی کی راہ اور ہو مگر اب تجربہ سے معلوم کریں گے کہ نجات کی راہ اس کے سوا اور نہیں۔پس دنیا آئے گی اور یقیناً سب طرف سے تھک کر