خطبات محمود (جلد 7) — Page 211
۲۱۱ ادھر آئے گی۔مگر اب سوال یہ ہے کہ کروڑوں لوگ جو ادھر متوجہ ہو رہے ہیں اور وہ ادھر آئیں گے۔کیونکہ عذابوں کے سلسلہ سے اپنی تمام ترقیات کے باوجود ہلاکت کو اپنے سامنے دیکھیں گے۔اور ادھر آئیں گے۔کیا ہمارے پاس ان کروڑوں کے لئے سامان تیار ہے؟ ہم نے ان کے ٹھرنے کی جگہ تیار کی ہے ؟ ہم نے ان کی تعلیم کا بندوبست کر لیا ہے؟ ہماری تمام کوششوں کا نتیجہ چند آدمی ہیں جو تعلیم دے سکیں۔۔۔۔۔اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ لوگوں نے یہ بوجھ چند لوگوں کے لئے سمجھ رکھا ہے۔صحابہ میں سے ہر ایک شخص معلم تھا۔اسی طرح ضرورت ہے ہر ایک احمدی معلم ہو۔دیکھو صحابہ گھاس کاٹتے تھے۔لکڑیاں چیرتے تھے۔باوجود اس کے وہ دین کے عالم تھے۔اسی طرح کو خاص خاص فنون میں چند عالم ہوں۔مگر دینی احکام اور اصول اور دلائل ہر ایک احمدی جانتا ہو۔جب کوئی سیکھنے والا آئے تو جو احمدی سامنے ہو کہہ دیا جائے کہ اس سے سیکھ لو۔ان تغیرات کی طرف توجہ کرو۔یہ مت خیال کرو۔کہ ابھی دنیا ادھر نہیں آئے گی۔اگر عقلوں پر فیصلہ ہو تو دنیا ہزاروں سالوں میں بھی ادھر نہ آئے گی۔مگر جب خدا تغیرات کر رہا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کس سرعت سے یہ کام ہو رہا ہے۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ شاید کل ہی ہو جائے۔اس لئے آپ کو چاہیے کہ ہر ایک احمدی دین کی واقفیت رکھتا ہو۔کم از کم دین کی صداقت کے دلائل اور فرائض سے آگاہ ہو۔صرف (۱) اخلاص اور (۲) توجہ (۳) اور تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے۔دیکھو ہمارے حافظ روشن علی صاحب نے تمام علوم سن سن کر پڑھے ہیں کیونکہ ان کی آنکھیں کمزور ہیں۔اسی طرح حافظ ابراہیم صاحب ان کو حضرت صاحب کی کتابیں یاد ہیں انہوں نے الف بے نہیں پڑھی۔مگر انہوں نے سن سن کر دین پڑھا۔اور یاد کیا ہے۔اس لئے پڑھنے ہی کی ضرورت نہیں۔صرف توجہ کوشش اور اخلاص سے یہ باتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ بہت سے اتنی واقفیت بھی نہیں رکھتے۔دیکھو تغیرات کا کوئی وقت مقرر نہیں۔میں کل ایک خوش خبری سنا چکا ہوں۔وہی افغانستان جہاں سید عبد اللطیف صاحب شہید ہوئے تھے۔وہاں اب امیر نے کہا ہے کہ کسی احمدی کو مذہب کی خاطر قید نہیں کرنا چاہیے۔بلخ میں تین احمدی قید تھے گورنر سے پوچھا گیا۔اس نے کہا کہ یہ احمدی ہیں۔حکم کیا کہ فوراً چھوڑ دو کسی احمدی کو مذہبی معاملہ میں قید نہیں کیا جا سکتا۔دیکھو ہم نہیں جانتے کہ وہاں کے لئے ہمیں کیا طریق عمل اختیار کرنا پڑتا۔شاید کابل کے لئے کسی وقت جہاد ہی کرنا پڑ جاتا۔مگر اب دیکھو کتنا تغیر آگیا۔وہاں