خطبات محمود (جلد 7) — Page 209
طرف ہی ایجاد ہو تو کام ختم ہو جاتا ہے۔مگر جب مقابلہ میں بھی ایجاد کا کام جاری ہو تو کام ختم نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک شخص گالی دے اگر وہ خاموش ہو رہے تو بات ختم ہو گئی۔مگر جب دوسری طرف سے اس کا جواب دیا جائے۔تو معاملہ بڑھ جاتا ہے۔پس اسی طرح جب تک انسانی تدابیر کے آگے نئی تدابیر کام کرتی نظر نہ آتی تھیں۔اس وقت خیال ہو سکتا تھا کہ شاید انسان غالب آجائے۔مگر جب معلوم ہوا کہ انسانی ایجادات کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ایجادات کا سلسلہ جاری ہے تو یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ انسان قدرت پر غالب آجائے گا۔جہاں انسان کی ایجادات جاری ہیں اس کے مقابلہ میں قدرت کی طرف سے ہلاکت آفریں امراض پیدا ہوتے رہتے ہیں۔پہلے زمانہ کی یہ حالت تھی کہ جب کوئی دوائی ایجاد ہوتی تھی۔تو دوسرے ملک میں سالہا سال میں پہنچتی تھی۔کیونکہ علم کے پھیلانے کے سامان نہ تھے اس لئے بہت سے علوم مرجاتے تھے یا آہستہ آہستہ پھیلتے تھے۔ایک بات دریافت ہو کر صدیوں میں دوسرے علاقہ میں پہنچتی تھی اور اتنے میں پہلا علاقہ علم میں اور ترقی کر جاتا تھا۔اور پہلا علم غلط قرار پاتا تھا۔مگر اب علم کے پھیلانے کے سامان بھی عجیب عجیب نکل آئے ہیں۔ریل ہے۔ڈاک ہے۔دخانی جہاز ہیں۔تار ہے۔پھر بے تار کا آلہ خبر رسانی ہے اور ان ذرائع سے کوئی کسی علم کی بات ہو۔سارے جہان میں پھیل سکتی ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی بیماریاں اور تباہیاں بھی اس سرعت سے اپنا کام کرنے لگی ہیں پہلے بیماریاں بھی کسی ایک علاقہ میں پیدا ہو کر مر جاتی تھیں۔یا قریب قریب کے علاقہ میں پھیل جاتی تھیں۔مگراب یہ حال ہے کہ ڈاک کے ذریعہ جہاں اخبار یا کتابیں دوسرے علاقہ میں جاتی ہیں۔بیماری کے جرمز بھی پہنچ جاتے ہیں۔اور آنا " فانا " بیماری پھیل جاتی ہے۔مثلاً ہیضہ ڈیڑھ صد سال سے یورپ میں پھیلا ہے۔پہلے نہ تھا۔اسی طرح آتشک وغیرہ بیماریاں ٹھنڈے ملکوں یعنی یورپ میں تھیں جب آپس میں ملاپ بڑھا تو اب یہاں بھی پھیل گئیں اس قاعدہ سے معلوم ہوا کہ دنیاوی علوم کی ترقی کے ساتھ ہلاکت بھی پھیلتی ہے۔یہ تو قانون میں تغیر ہے۔انسانی خیالات میں بھی تغیر آیا ہے۔آج سے پہلے جو تغیر شدہ باتیں تھیں ان کو اب بیوقوفی کی باتیں سمجھا جاتا ہے۔مثلاً اب کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی زبر دستی کسی ملک کو فتح کرے تو مفتوحہ علاقہ اس کا حق نہیں۔پہلے یہ خیال تھا کہ اگر مفتوحہ علاقہ فاتح کا حق نہیں تو اور کس کا ہے۔لیکن اب کہا جاتا ہے کہ ہر ایک ملک والوں کا حق ہے کہ وہ اس میں حکومت کریں۔یا تو قبضہ کرنا جائز سمجھا جاتا تھا یا اب اس کو ناجائز کہا جاتا ہے اور اس کو جہالت کی بات کہا جاتا ہے۔اسی طرح اور بہت سی باتیں جن کے متعلق خیالات میں تغیر آگیا ہے۔خیالات کے تغیر سے حکومتوں کا طرز بدل گیا ہے۔لوگوں کی عام حالت میں فرق آگیا ہے۔پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ ماں باپ پر اولاد کا کوئی حق نہیں۔مگر اب کم از کم ایک علاقہ میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔