خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 208

۲۰۸ 39 ہمیں دنیا کی تربیت کے لئے تیار ہونا چاہئیے (فرموده ۲۷ جنوری ۱۹۲۲ء) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے۔کہ زمین میں عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔یعنی انبیاء نے یوں آئندہ زمانہ کے متعلق خبریں دی ہیں۔اور مسیح موعود جو آدم ثانی ہے اپنی ذات سے ادھر اشارہ کر رہا ہے کہ اس زمانہ میں عظیم الشان تغیرات ہوں گے۔مگر ان پیشگوئیوں کے علاوہ زمینی تغیرات بتاتے ہیں کہ یہ تغیر ہونے والا ہے۔کیونکہ جب تک ایک بات پیشگوئی کی حد تک رہے تو وہ بات تعبیر طلب ہوتی ہے۔اور خیال ہوتا ہے ممکن ہے یوں ہو یا یوں۔مگر جب واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ نتیجہ ہے۔تو اس وقت دنیا میں عظیم تغیرات ہو رہے ہیں۔جن میں سے کچھ تو انسانی ہاتھوں سے اور کچھ آسمانی تدابیر ہے۔خدا تعالی کی طرف سے کچھ ایسی حرکت دی گئی ہے کہ دنیا اپنے رستہ سے سے ہٹ گئی ہے۔یہی نہیں کہ مصائب ہیں۔ایک قسم کی بیماریاں ہیں۔لڑائیاں ہیں۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ نئی نئی قسم کی بیماریاں ہیں جو پیدا ہو رہی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی تمام علمی ترقی کے باوجود خدا کی گرفت سے باہر نہیں۔انسان نے سمجھا تھا کہ ہم خدا کی گرفت سے نکل گئے۔ڈاکٹر ہنسا کرتے تھے کہ ہم نے سب بیماریوں کا علاج نکال لیا ہے۔مگر اب جو بیماریاں آتی ہیں وہ ان کے قابو میں نہیں ہیں۔اور ان کا علاج ان کو معلوم نہیں۔یہی انفلوئنزا پہلے بھی ہو چکا ہے۔اور اس کی کئی روئیں چل چکی ہیں۔لیکن اس کی اب جو شکلیں نکلی ہیں۔وہ بالکل نئی ہیں مثلاً اب جو مرض یورپ میں پھیلا ہے۔اس سے دماغ میں خلل آتا ہے اور انسان سوتے ہی سوتے مرجاتا ہے۔تمام مرض کی کیفیات بے ہوشی میں ہوتی ہیں۔اس کی نسبت ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کا علاج معلوم نہیں۔معلوم ہوا کہ جس طرح انسان ایجاد کرتا ہے۔قانون قدرت بھی ایجاد کرتا ہے۔اگر ایک