خطبات محمود (جلد 7) — Page 188
IAA ادبی سے مسلمانوں پر کس قدر تباہی اور بربادی آئی۔جب کسی کے پاس کچھ نہ رہے تو کہتے ہیں "اب تو اللہ ہی اللہ " یعنی ان کے نزدیک اللہ کے معنی یہ ہیں کہ کچھ نہیں"۔یہ کہنے سے ان کا مطلب یہ نہیں ہوتا۔کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا اللہ ان کے مد نظر ہوتا ہے یا حضرت ابو بکڑ والا اللہ ان کے ذہن میں ہوتا ہے جن سے رسول کریم نے ایک موقعہ پر جب کہ وہ اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دینے کے لئے لے آئے۔پوچھا کہ گھر کیا چھوڑ آئے ہو۔تو انہوں نے کہا تھا " اللہ " علی اور رنگ تھا۔اور اس کی اور ہی شان تھی۔مگر مسلمان جب یہ کہتے ہیں۔کہ اب اللہ ہی اللہ ہے۔تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نفی ہے۔اب کچھ نہیں رہا۔اس طرح اللہ کے لفظ کے استعمال کا یہ نتیجہ ہوا ہے۔کہ لوگوں کے دلوں سے خدا تعالی پر ایمان اٹھ گیا۔اور ان میں دہریت آگئی۔اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو۔کہ ادب اور احترام کے الفاظ کبھی گندی اور بری جگہ استعمال نہیں کرنے چاہیں ورنہ قابل ادب چیزوں کا ادب اٹھ جائے گا۔اور اس کا نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے اور کچھ نہیں ہو گا۔مثلاً "شہید" کا لفظ ہے دیکھو آج کل مسلمانوں کی عقلیں کس طرح ماری گئی ہیں۔وہ جو دین کے لئے مارے گئے وہ جنہوں نے دین کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جانیں دیں وہ جنہوں نے اپنے خون سے اسلام کی بنیاد کو مضبوط کیا ان کے لئے خدا تعالیٰ نے "شہید" کا لفظ استعمال کیا ہے۔اور جن کے متعلق آیا ہے۔کہ اوروں کو تو برزخ سے گزار کر بہشت میں داخل کیا جائے گا۔مگر وہ جلدی داخل بہشت کر دئے جائیں گے۔یہ تو شہید کی شان ہے۔مگر مسلمانوں نے کان پور کی مسجد کے غسل خانہ کو شہید قرار دیا۔گویا اس گارے اور مٹی کو جو پاخانہ میں بھی ڈالی جاسکتی ہے حضرت عثمان کے برابر بنا دیا۔اسی طرح ایک شعر ہے جس میں جھجری کو شہید کیا گیا ہے (حضور نے شعر پڑھا تھا۔لیکن قلم بند نہ ہو سکا) اس کا نتیجہ یہ ہوا۔کہ مسلمانوں کے دلوں سے اس لفظ کا ادب مٹ گیا۔اگر ان میں اس کا ادب رہتا۔وہ سمجھتے یہ بہت بڑا درجہ ہے اور اس کے بہت اعلیٰ نتائج نکلتے۔خدا تعالیٰ کی خاص خوشنودی حاصل ہوتی ہے تو جب کبھی شہادت پانے کا موقع آتا کبھی پیچھے نہ ہٹتے۔مگر چونکہ ان میں ادب نہ رہا۔اس لئے اس درجہ کی ان کی نظر میں کچھ حقیقت نہ رہی۔اور غسل خانے اور جھجریوں کو شہید کہنے لگ گئے۔جب شہید کی حیثیت ان کی نگاہ میں یہ رہ گئی۔تو شہادت حاصل کرنے کی خواہش ان کے دل میں خاک پیدا ہو سکتی ہے۔پس یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئیے۔کہ وہ الفاظ جن کا شریعت نے ادب اور احترام لازم قرار دیا ہے۔ان کا ادب کرنا نہایت ضروری ہے۔اور یہ بات مومن کے ایمان میں داخل ہے۔مجھے اس خطبہ کے پڑھنے کی تحریک اس طرح ہوئی۔کہ میں نے ٹہلتے ٹہلتے گھر میں دو اشتہار