خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 189

۱۸۹ لگے ہوئے دیکھے۔جن میں دو نہایت نا معقول فقرے درج تھے۔ایک میں تو لکھا تھا "حمائل اعجاز صنعت گویا اس کتاب میں ایسا اعجاز رکھا گیا کہ اس کا کاتب ایسا ہی ہے۔جیسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم آپ نے بھی اعجاز دکھایا اور اس کاتب نے بھی۔دوسرے اشتہار میں لکھا تھا۔اعجازی پریس " گویا اللہ تعالیٰ ہی ایسا پریس بنا سکتا ہے۔اور اس پریس بنانے والے کو ہی اس نے یہ قدرت بخشی ہے۔اور کوئی انسان نہیں جو ایسا پریس بنا سکے۔اب میں پوچھتا ہوں۔جب تم معمولی کتابت کو اور معمولی پریس کو اعجاز کا نام دو گے تو حضرت مرزا صاحب اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعجازوں اور معجزوں کی تمہاری نگاہ میں کیا قدر رہے گی۔جس کی نظر سے اس قسم کے فقرے گزریں گے وہ سمجھے گا ذرا کوئی کار آمد چیز ہو یا جس میں کوئی ذرا عجوبہ ہو وہ اعجاز ہوتا ہے اور اس طرح اس کے دل سے اصل اعجاز کی وقعت دور ہو جائے گی۔میرے نزدیک یہ مخفی کفر ہے۔کیونکہ اس طرح شریعت کے احترام کو تباہ کیا جاتا ہے۔پریس ہے کیا چیز۔اور اس میں اعجاز کونسا ہے۔ایسے پریسوں کے سینکڑوں نسخے تو میں نے پڑھے ہیں۔حالانکہ میں اس فن کا آدمی نہیں ہوں۔اور نہ مجھے اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت تھی۔تاہم تین چار نسخے تو مجھے یاد بھی ہیں۔اسی طرح حمائل میں کونسی ایسی صنعت ہے۔جسے اعجاز کا درجہ دیا جائے۔یہ کہاں کی صنعت ہے کہ اگر الف پہلی سطر میں آگیا۔تو پچھلی سطر میں بھی الف ہی آیا۔اور اس کے لئے ایک سطر لمبی لکھ دی اور دوسری چھوٹی۔یہ تو ایسی صنعت ہے۔جیسے کسی نے کہا ہے۔رفتم بازار خریدم گنا قل اعوذ برب الناس ملك الناس الى الناس من شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناس من الجنة والناس (الناس : ۲ تا ۷) اس طرح تو اگر کوئی دید اور انجیل کو بھی لکھنا چاہے۔تو لکھ سکتا ہے۔۲۶ حروف ہوتے ہیں۔اور بعض زبانوں میں تو اس سے بھی تھوڑے۔اور زیادہ سے زیادہ ۳۷۳۵ ہوتے ہیں۔ان کو ایسی ترتیب دینا کہ جو پہلی سطر کے پہلے آئے۔وہی آخری سطر کے پہلے آئے۔اس میں اعجاز کیا ہے۔یہ تو لفظ اعجاز کے ساتھ تمسخر ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معجزہ اور اعجاز کی قدر اتنی ہی رہ جائے گی جب بچے کے سامنے مسیح موعود کے کسی معجزہ کا ذکر آئے گا۔تو فوراً اس کا خیال پریس اور حمائل کی طرف چلا جائے گا کہ یہ معجزہ بھی ایسا ہی ہوگا۔حالانکہ اعجاز تو وہ معجزہ ہوتا ہے۔کہ جو خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ورنہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود حضرت عیسی ، حضرت موسیٰ کا ذاتی فعل بھی اعجاز نہیں کہلا سکتا۔