خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 187

اس کے پیدا ہونے کے دروازے بند نہ کئے جائیں۔بند نہیں ہو سکتی۔قرآن کریم میں آپ لوگ نه پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر ناراض ہوتا ہے کہ رسول کریم کو راعنا کہو۔اے حالانکہ اس کے بھی وہی معنی ہیں۔جو انظرنا کے ہیں۔پھر کیوں فرماتا ہے کہ راعنا نہ کہو۔انظرنا کہو اور یہاں تک فرماتا ہے۔کہ اگر تم راعنا کہو گے تو تمہارے ایمان ضائع ہو جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ راعنا کے لفظ میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ایک یہ کہ منافق اور شریر لوگ اس میں کبھی پیدا کر کے راعینا یا چکر ڈال کر رعونت کی طرف لے جا سکتے تھے۔یا چونکہ رسول کریم نے ابتدائی زمانہ میں بکریاں چرائی تھیں۔اس کی طرف ہتک کے طور پر اشارہ کرتے تھے۔یہ وجہ بھی تھی۔مگر اصل بات یہ ہے که راعنا باب مفاصلہ سے ہے۔اور اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ تم میرے لئے یہ کام کرو تو میں تمہارے لئے یہ کام کردوں گا۔گویا دونوں طرف کی شرط پائی جاتی ہے۔جیسے کہتے ہیں فاتلا اس کے معنی ہیں۔کہ دو آدمی ایک دوسرے سے لڑے۔اگر صرف ایک ہی لڑے۔تو اس کے لئے یہ نہیں کہیں گے۔اگر چہ راعنا کے عام استعمال میں یہی معنی لئے جاتے تھے۔کہ آپ ہماری رعائت کریں۔مگر لغت میں اس کا یہ مفہوم بھی ہے کہ تم ہماری رعایت کرو۔تو ہم بھی تمہاری رعائت کریں گے۔گویا اس کا یہ مطلب ہوا کہ آپ ہمارا خیال رکھیں۔ہم بھی آپ کا خیال رکھیں گے۔اور اس میں گستاخی اور بے ادبی پائی جاتی ہے۔یہودیوں کا منشا یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کریں۔تا ان سے سنکر مسلمان بھی ان الفاظ کو استعمال کرنے لگ جائیں۔اور اس طرح رسول کریم کا ادب اور احترام آہستہ آہستہ دور ہو جائے۔اس بدی کا سد باب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے روک دیا کہ کوئی یہ لفظ رسول کریم کے متعلق استعمال نہ کرے۔تو چھوٹی چھوٹی باتوں کا شریعت میں لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔مسلمانوں میں جو تباہی اور خرابی پیدا ہوئی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے ادب اور احترام کے الفاظ گندے معنوں میں استعمال کرنے شروع کر دئے۔ان کی حکومتیں مٹ گئیں۔سلطنتیں برباد ہو گئیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ان کے نزدیک "بادشاہ" کے معنی ”بیوقوف" کے ہو گئے۔جہاں "بادشاہ" " بے وقوف کو کہا جائے۔وہاں بادشاہ کا ادب کہاں رہتا ہے۔اور جب بادشاہ کا ادب گیا۔تو حکومت بھی تباہ ہو گئی اسی طرح علماء اور بزرگوں کا ادب مسلمانوں کے دلوں سے اس طرح اٹھا۔کہ حضرت" کا لفظ جو ان کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔یہی لفظ شریروں اور بد معاشوں کے متعلق استعمال کرنے لگے۔اس طرح علماء کا ادب مٹ گیا۔اور ان کی بے ادبی شروع ہو گئی۔اسی طرح دیکھو اللہ کے لفظ کی بے