خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 104

۱۰۴ 26 پل صراط (فرموده ۱۴ اکتوبر ۶۱۹۲۱ ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔ہمارے ملک میں عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ جب لوگ قیامت کے دن اکھٹے کئے جائیں گے۔اور خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو حساب کتاب کے بعد بظاہر اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کو جنت کا راستہ بتایا جائے گا۔جب وہ ادھر چلیں گے تو ان کا راستہ دوزخ پر سے ہو کے گذرے گا۔اور دوزخ پر ایک پل ہو گا۔جو تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز ہو گا۔جو لوگ متقی اور پرہیز گار ہوں گے۔اور خدا تعالی کے حضور برگزیدہ اور پسندیدہ ہوں گے۔وہ اس پل پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے۔اور جو ان سے کم رتبہ کے ہوں گے مگر ہونگے خدا کے پسندیدہ وہ ہوا کی طرح پل کو عبور کریں گے۔اور جو ان سے کم ہوں گے وہ تیز گھوڑے کے سوار کی طرح اور جو ان سے کم ہونگے وہ نہایت تیز دوڑنے والے انسانوں کی طرح اور جو ان سے بھی کم ہوں گے وہ پیدل چلنے والے انسان کی طرح اور پھر جو ان سے بھی کم ہوں گے وہ لڑکھڑاتے ہوئے اس پل کو طے کریں گے۔کچھ ایسے ہوں گے کہ جو اس طرح اس پر سے گزریں گے جس طرح کوئی گھٹنوں کے بل چلتا ہے۔۔۔اور جو آخری درجے کے ہونگے یعنی جن میں ایمان نہیں ہوگا اور جو خدا کے پسندیدہ ہونے کی بجائے راندہ درگاہ ہوں گے۔وہ جونہی اس پل پر چڑھیں گے کٹ کر دوزخ میں گر جائیں گے۔ان واقعات کو واعظ اور ناصح اپنے وعظوں میں بیان کر کے طبائع میں رقت اور نرمی پیدا کرتے ہیں جس سے لوگ وعظ کو قبول کرتے ہیں۔بظاہر یہ واقعہ معمولی ہے۔اور بہت سے تعلیم یافتہ اس کو سن کہا جبکہ ان کو دین کی واقفیت نہ ہو مولویوں کا ایجاد کیا ہوا ڈھکوسلہ کہہ دیں گے لیکن وہ لوگ جن کو دیر سے کسی حد تک بھی واقفیت ہے مگر مادیت نے بھی ان پر اثر کیا ہوا ہے وہ کہہ دیں گے کہ اگلے جہاں کی بات ہے۔ہمیں اس کی تلاش اور تحقیق کی ضرورت ہی نہیں برخلاف ان کے وہ لوگ جن میں قدامت پرستی حد درجہ کی ہے اور جو لفظوں سے ادھر ادھر ہونا پسند نہیں کرتے ان کے