خطبات محمود (جلد 7) — Page 105
۱۰۵ نزدیک واقعی ایک پل ہے جس پر سے گذرنے والوں کی یہی حالت ہوگی۔مگر میرے نزدیک کسی نے اس روایت کی اہمیت پر غور نہیں کیا نہ تو یہ ڈھکوسلہ ہے نہ موضوعات میں سے کوئی قصہ ہے اس کی اہمیت تو اسی سے ظاہر ہے کہ قریباً تمام بڑے بڑے مذاہب میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔جس طرح خدا کے وجود پر تمام مذاہب متفق ہیں۔اور جس طرح خدا کے وجود پر تمام مذاہب کو اتفاق ہے۔سوائے بعض کے جنہوں نے دوری کی وجہ سے انکار کر دیا اور جس طرح قریباً تمام مذاہب میں ملا مکہ کا وجود پایا جاتا ہے جس طرح مرنے کے بعد احیاء کا عقیدہ بہت حد تک متفقہ عقیدہ ہے۔اسی طرح پل صراط کا عقیدہ بھی قریباً تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے۔اور معلوم ہوتا ہے۔کہ اس کی بھی کچھ حقیقت ہے۔اسلام کی مذہبی کتب میں اس کا ذکر ہے۔یہود کی کتب میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔پھر اس کی حکمت کیا ہے۔اس پر بھی اسی طرح ایمان لانے کی ضرورت تھی جس طرح اور امور ایمانیہ پر ایمان لانا ضروری اور اہم ہے۔اگر اہل مذاہب اس پر غور کرتے اور اس کی حقیقت سمجھتے۔تو وہ جو وادی ظلمت میں بھٹکتے پھرتے ہیں ہدایت پا لیتے۔بہت جو اب تک خدا سے غافل ہیں ان کو خدا کا پتہ مل جاتا۔لیکن کیسے افسوس کی بات ہے کہ پرانے زمانہ کے لوگوں نے تو اس کو پل سے آگے نہ جانے دیا کیونکہ اس وقت لفظ پر ستی غالب تھی۔اور آج جبکہ مادیت کا زمانہ ہے اس کو قصہ سمجھ کر انکار کر دیا گیا۔لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بات سچی ہے۔پل صراط ہے۔مگر اس صورت میں نہیں جس طرح لوگ کہتے ہیں۔ہاں وہ اس دنیا کی علامت ضروری ہے۔حضرت صاحب نے اس امر پر بحث کی ہے۔کہ مومنوں کو جب قیامت کے دن میوے ملیں گے تو وہ کہیں گے ایسے تو ہمیں پہلے بھی ملے تھے۔وہ میوے ہوں گے تو متشابہ مگر کیا یہی میوے ہوں گے جیسے ہم آج بازار سے خرید کر کھاتے ہیں۔حدیث سے تو معلوم ہو تا کہ وہاں کی چیزیں دنیا کی چیزوں سے قیاس میں ہی نہیں آسکتیں۔کیونکہ ان کے متعلق آتا ہے۔لا عين رأت ولا اذن سمعت اب کہ وہ نہ آنکھوں نے دیکھے ہوں گے۔نہ کانوں نے سنے ہوں گے۔پھر یہ کیسے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ میوے یہاں کے میووں سے متشابہ ہوں گے حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ وہ میوے ایسے نہیں ہوں گے جو ہم یہاں کھاتے ہیں۔ان میووں اور ان میووں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کے میوے یہاں کی روحانی لذت کے مشابہ ہوں گے۔جیسے ایک مومن کو نماز یا روزے یا حج یا زکوۃ یا کسی غریب کی ہمدردی میں لذت آتی ہے وہاں اس کو جو میوے ملیں گے ان سے یہی لذت اسے حاصل ہوگی۔اور ان کا دل اسی طرح سرور سے پر ہو گا جس طرح یہاں عبادت الہی کے بجالانے سے ہوتا تھا۔تو وہاں جو پھل ملیں گے ان کی لذتیں متشابہ ہوں گی ان لذتوں کے جو مومن کو یہاں عبادت الہی میں حاصل ہوتی ہیں۔جو لذت نماز یا روزے یا کسی اور