خطبات محمود (جلد 6) — Page 420
دکھانے اور نیکی کرنے کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں۔اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مٹ جائیں گے۔اس کا جواب عام طور پر کوئی نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ ہر ایک نئی جماعت جو کھڑی ہوتی ہے۔وہ نیکی اور جوش میں ترقی کرتی نظر آتی ہے۔عیسائیوں۔یہودیوں۔سکھوں وغیرہ سب کا یہی حال ہوا۔کیونکہ انہیں ڈر تھا اگر ہم نے آپس میں اتحاد نہ کیا تو تباہ ہو جائیں گے۔اگر ہم نے اچھے کام نہ کئے تو لوگ طعنے دینگے کہ ہم سے کیوں علیحدہ ہوتے تھے تو لوگوں کے طعنوں سے بچنے اور اپنی ہستی کو قائم رکھنے کے لیے ہر نئی جماعت کا یہی حال ہوتا ہے۔تو پھر ہمیں کیا امتیاز حاصل ہے۔وہ امتیاز ایک ہی ہے کہ ہم خطرہ سے محفوظ ہو کر بھی ویسے ہی نظر آئیں۔جیسے خطرہ کیوقت تھے۔اگر خطرہ اور خوف کے وقت ہم میں اتحاد اور اتفاق پایا جاتا ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔خوف و خطر کے وقت تو حیوان بھی لڑنا چھوڑ دیتے ہیں اور سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھر جن کو معلوم ہو کہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے اور ہمارے گھروں میں ماں باپ بہن بھائی مخالف ہیں۔ان کا اچھا ہو جانا کونسی بڑی بات ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے مجبوری سے اکٹھے ہوتے میں یا اگر وہ صدقہ دیتے اور مال زیادہ خرچ کرتے ہیں تویہ بھی مجبوری ہے کیونکہ سمجھتے ہیں اگر ہم نے مال نہ خرچ کیا تو ہماری جماعت نہ بڑھے گی اور ہم کمزور رہیں گے۔پس ہم میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ہمارا تقویٰ اور نیکی اخلاق اور اتحاد - جوش اور فروش خوف اور امن میں ایک ہی جیسا رہتا ہے۔اور ہم جو کچھ کرتے ہیں۔وہ لوگوں کے ڈرسے نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے لیے کرتے ہیں۔اگر یہ ثابت کر دیا جائے تب دشمن ہم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔اس وقت میں اپنی جماعت کے اس علاقہ میں کھڑا ہوں۔جہاں خدا کے فضل سے اور علاقوں کی نسبت احمدیت کی زیادہ ترقی ہوتی ہے۔اس علاقہ میں ایسی بستیاں موجود ہیں۔جہاں احمدیوں کی تعداد دوسروں کی نسبت زیادہ ہے۔اور غیر احمدی قریباً مفقود ہیں۔اس لیے یہی علاقہ ہے جو سب سے پہلے اس بات کا ثبوت پیش کر سکتا ہے کہ ہماری نیکی ہمارا تقویٰ۔ہمارا اتحاد ہمارا اتفاق - ہماری قربانی۔ہماری کوششیں لوگوں سے ڈر کر مجبوری کی وجہ سے ہیں یا خدا تعالیٰ کے لیے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہیں۔اس جگہ جماعتیں موجود ہیں۔جن کے گاؤں میں غیر احمدی یا تو بالکل نہیں یا ایسی کمزور حالت میں ہیں کہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لیے وہ لوگ امن میں ہیں گو پورے امن میں نہیں کیونکہ اگر ان کے گاؤں میں ان کے مخالف نہیں رہے یا کمزور ہو گئے ہیں تو ارد گرد کے گاؤں میں تو ہیں۔تاہم اوروں کی نسبت وہ زیادہ ان میں ہیں ان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ سچی نیکی اور سچا اخلاص دکھا سکتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ جہاں ایسا موقع