خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 419

۴۱۹ کہ وہ خدا کے لیے نہیں کرتے۔بلکہ لوگوں کے ڈر سے کرتے ہیں جب لوگ مخالف نہ رہے تو وہ بھی اپنی پہلی حالت پر قائم نہ رہے۔نہیں اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ کسی جماعت کا جوش خدا تعالیٰ کے لیے ہے یا مجبوری سے ہے یہی دیکھا جاتا ہے۔کہ جب وہ دشمن کے حملوں سے بچ جاتے۔تو اس وقت اس کی حالت کیا ہوتی ہے اگر اس وقت بھی وہ اخلاص و نیکی۔تقویٰ و طہارت - جوش و خروش - اتحاد و اتفاق محبت و الفت میں ترقی کرے۔تو جان لو کہ وہ جو کچھ کرتی رہی ہے۔خدا کے لیے کرتی رہی ہے، لیکن اگر اس وقت جبکہ دشمن ہٹ جاتے۔مخالفت کرنے والے خاموش ہو جائیں۔اس کے ایمان میں کمزوری - نیکی اور خلوص میں کمی واقع ہو جائے۔تو معلوم ہوا کہ وہ ڈر کے مارے مجبوری سے کرتی رہی ہے۔اگر خدا کے لیے کرتی۔تو خدا اب بھی موجود ہے۔اب بھی اسی طرح ترقی کرتی جس طرح وہ پہلے کرتی تھی۔پیس امین کی حالت میں ہو کر اس کا اپنی حالت کو بدل لینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ پہلے وہ جماعت جو کچھ کرتی تھی۔مجبوری کی وجہ سے کرتی تھی جب وہ مجبوری دور ہو گئی۔تو اس نے اس طرح کرنا بھی چھوڑ دیا۔بعض نادان فلسفیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔کہ کسی جماعت کے بچے ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس میں بڑا جوش ہو۔اور اسے اپنے مقصد کے پورا کرنے کی دھن لگی ہوئی ہو۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ ہر نئی جماعت میں جوش ہوتا ہے۔دراصل ان کو دھوکہ اسی وجہ سے لگا ہے کہ انہوں نے یہ نہیں دیکھا۔جوش کا باعث کیا ہے اگر مجبوری کی حالت میں کسی جماعت نے جوش دکھایا تو اس کو سچا نہیں کہا جا سکتا۔اور اگر مجبوری کے دُور ہو جانے پر بھی اس میں جوش پایا گیا۔تب وہ سچی ہو سکتی ہے۔یہی فرق ہے جو انبیاء اور دوسروں کی جماعتوں میں پایا جاتا ہے۔رسول پر جولوگ ایمان لاتے ہیں۔ان میں سے اکثر کیونکہ بعض منافق بھی ہوتے ہیں، ایمان اور نیکی میں بڑھتے ہی جاتے ہیں اور حقیقی ایمان بڑھتا ہی ہے۔کم نہیں ہوتا۔تمام نبیوں کے بچے پیروؤں کی یہی حالت ہوتی ہے۔اس زمانہ میں ہماری جماعت ایک ایسی جماعت ہے جونی کی قائم کی ہوتی ہے۔اس کی سچائی اور حق پر قائم ہونے کی یہ دیل سمجھی جاتی ہے۔کہ اس میں جوش بڑھا ہوا ہے۔مگر اس پر بھی وہی اعتراض پڑتا ہے کہ یہ کس طرح معلوم ہو کہ اس کا جوش اصلی اور حقیقی جوش ہے۔کیوں نہ کہیں کہ چونکہ ہر طرف سے اس پر حملے ہوتے ہیں۔اس لیے اس جماعت کے لوگوں کا آپس میں اتحاد پایا جاتا ہے۔انہیں اپنی جانوں کا خطرہ لگا ہے۔اس لیے وہ مجبور ہیں کہ متحد ہو کر رہیں۔اسی طرح ان کے اعلیٰ اخلاق