خطبات محمود (جلد 6) — Page 400
۔دے دیا۔تو پھر ضروری نہیں ہے کہ وقت بھی دیں۔اتنا ہی کافی ہے کہ کبھی کسی مولوی کو بلا کر دوعظ کرا دیا۔یہی وجہ ہے کہ کئی مولوی جن پر قرض ہو جاتا ہے۔وہ بمبئی وغیرہ مقامات پر چلے جاتے ہیں۔اور وعظ کر کے روپ پی جمع کر لاتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ دینے والے تو ان میں بھی ہیں۔ہاں اگر کوئی فرق ہے تو یہی کہ وہ چندہ دے کر اس کے ساتھ یہ شرط لگاتے ہیں کہ ہم روپیہ تو دے دینگے لیکن اپنا وقت نہیں دینگے۔مگر پیچھے مذہب کے پیرو اس قسم کی شرطیں نہیں لگایا کرتے۔مومن کی علامت خدا تعالیٰ نے یہ بتائی ہے۔لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ۹۳) کہ جو چیز سب سے قیمتی سمجھے۔اسے خدا کی راہ میں قربان کرے۔اگر کوئی روپیہ تو دے سکتا ہے، لیکن وقت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔تو اس سے وقت کا ہی مطالبہ کیا جاتا ہے۔یا اگر امیر آدمی ہے۔اس کو غربا ہ سے مل کر بیٹھنا دو بھر معلوم ہوتا ہے تو اس سے خدا تعالیٰ ایسی قربانی چاہتا ہے۔غرضکہ جو چیز کسی کو قیمتی معلوم ہو۔وہی خدا تعالیٰ اپنے رستہ میں قربان کرنے کے لیے کہتا ہے اور مومن وہی ہوتا ہے جو ایسا کرتا ہے پس اشاعت دین کے لیے خدا تعالیٰ نے جمعہ میں بہت بڑا سبق رکھا ہے۔اور بتایا ہے کہ جب خدا نے اپنی عبادت کا آدھا وقت کم کر دیا ہے۔تو تم کیوں اپنا وقت اس کام میں خرچ نہیں کرتے۔مگر افسوس ہے کہ بہت لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔آج یہاں باہر سے بھی جماعتیں آتی ہوتی ہیں۔وہ بھی میری مخاطب ہیں، لیکن خصوصاً لاہور کی جماعت سے خطاب ہے۔وہ بتاتے کہ اس کے کتنے آدمی ہیں۔جو تبلیغ دین کے لیے اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔اور ہر سال کتنے آدمی ان کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔بہت لوگ اس خیال سے کہ ہمیں وسیع الاخلاق سمجھا جائے۔ان لوگوں کو جن سے وہ ملتے ہیں۔تبلیغ نہیں کرتے۔تاکہ ان کے متعلق ان سے ملنے والے کہیں کہ انہیں ہم سے ملتے دو بال ہو گئے ہیں، لیکن کبھی انہوں نے اپنے سلسلہ کا نام تک نہیں لیا۔اور کبھی تبلیغ نہیں کی۔گویا وہ خدا اور یا وہ اس کے رسول کو اس لیے قربان کرتے ہیں کہ انہیں وسیع الخیال کیا جائے۔پھر کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے اوقات کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اشاعت دین میں لگایا۔تو ہماری تجارت یا پیشہ کے کاروبار میں نقصان ہوگا۔گویا وہ دین کی اشاعت کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ اس وجہ سے انہیں مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ صداقت پر قائم رہنے اور خدا تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر کسی قدر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ غیر احمدیوں کی طرح سمجھتے۔دو