خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 399

۳۹۹ بات تھی، لیکن علم ہونے اور منع کرنے کے بعد بھی اس پر قائم رہنا اور منع کرنے والے سے لڑنا اس کی سخت نادانی اور جہالت کو ثابت کرتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے جس طرح آپس میں اتحاد قائم رکھنے اور محبت بڑھانے کے لیے جمعہ میں بڑا سبق رکھا ہے اسی طرح تبلیغ کی طرف بھی خاص طور پر متوجہ کیا ہے۔اور اپنے دین کی تبلیغ اور تذکیر کے لیے اپنی عبادت کو چھوڑ دیا ہے۔نادان ہم پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ بسوں پر کیوں نمازیں جمع کرلیتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں جمع کرنا کیسا۔خدا تعالے نے تو اجتماع کے دن دور رکعتیں ہی اُڑا دی ہیں۔پھر جلسوں کے ذریعہ ذکر الہی اور دین الٹی کا پھیلا نا کیا ایسی نکمی چیز ہے کہ بارش ہو تو نماز جمع کر لی جائے۔کہیں جانا ہو۔تو جمع کرلی جائے لیکن اس کے لیے نہ کی جائے۔اگر اللہ تعالیٰ کے نام کی اشاعت ایسی ہی معمولی چیز ہے کہ اس کے لیے نمازیں جمع نہیں کرنی چاہئیں۔تو پھر یہ کیا ہے کہ ہفتہ میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنی آدھی عبادت ہی اُڑا دی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو پھیلانا اور اس کے دین کی اشاعت کرنا بہت بڑے اہم امور میں سے ہے پس جمعہ میں جہاں ان لوگوں کے لیے سبق ہے۔جو خدا تعالیٰ کے دین کی تحقیر کرتے ہیں کہ وہ اس کی اہمیت سمجھیں۔وہاں ہمارے لیے بھی یہ سبق رکھا گیا ہے کہ ذکر الہی کوئی معمولی چیز نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے اس کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دیا ہے۔اور اس طرح بتایا ہے کہ جب میں نے تذکیر اور وعظ کے لیے اپنی عبادت آدھی کر دی ہے۔تو پھر تم اس کیلئے کیوں قربانی نہیں کرتے ، مگر بہت لوگ ایسے ہیں کہ جب ان سے پوچھا جاتے کہ تم کیا اشاعت دین کرتے ہو تو کہتے ہیں ہمیں اپنے کاموں سے ہی فرصت نہیں ہوتی۔تبلیغ کیا کریں۔میں کہتا ہوں۔کاموں سے فرصت تو ان لوگوں کو بھی نہیں۔جنہوں نے مسیح موعود کو رد کیا ہے۔پھر تم کو ان پر کیا فضیلت ہوئی۔اور تم میں اور ان میں کیا فرق رہا۔رہا تبلیغ کے لیے چندہ دینار میں مانتا ہوں کہ جس طرح ہماری جماعت ایک باقاعدگی کے ساتھ چندہ دیتی ہے اور کوئی جماعت نہیں دیتی مگر پھر بھی اور قوموں میں ایسے لوگ ہیں تو سہی ، جو چندہ دیتے ہیں، خواہ ان میں سے سو پچاس میں سے ایک ہی دے، لیکن چونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس لیے چندہ دینے والے تعداد کے لحاظ سے ان میں زیادہ ہیں۔پس چندہ دینے کے لحاظ سے وہ ہمارے ساتھ تو مساوی ہیں۔کیونکہ ان میں بھی ایسے لوگ ہیں جو دیتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اوقات کی خدا تعالیٰ کے لیے قربانی کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔بلکہ سمجھتے ہیں کہ اگر خدا کے دین کے لیے روپیہ