خطبات محمود (جلد 6) — Page 401
ہیں کہ تبلیغ کرنا مولویوں کا کام ہے۔ہمارا نہیں ہے جب انھیں کہا جائے کہ تم تبلیغ دین کیوں نہیں کرتے تو کہتے ہیں۔مولوی بھیجو۔گویا ان کے نزدیک تبلیغ کے ذمہ وار صرف مولوی ہیں۔اور وہ خود اس سے بری الندم ہیں۔حالانکہ قرآن کریم میں کہیں۔یا ایها الموسويون نہیں آیا کہ اسے مولولو ! تم یوں کرو۔بلکہ یا اشیا الَّذِينَ آمَنُوا ہی آیا ہے کہ اسے مسلمانو ا تم اس طرح کرو۔قرآن کریم کی کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جس میں صرف علماء کو مخاطب کر کے کہا گیا ہو کہ اسے علماء تم کیوں کرو، بلکہ بار بار ہی آیا ہے کہ اے مسلمانو! تم کیوں کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے سب مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور قرآن قیامت کے دن یہ مطالبہ نہیں کریگا کہ مجھے مولویوں نے دنیا میں نہیں پہنچایا بلکہ یہی کرے گا کہ مجھے مسلمانوں مومنوں نے نہیں پہنچایا اور رسول کریم بھی یہی فرمائیں گے کہ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان (۳۱) اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو پھینک دیا۔یہ : نہیں فرمائیں گے کہ مولویوں نے اسے پھینک دیا۔پس وہ لوگ جو صرف مولویوں کو تبلیغ کرنے کا دروار قرار دیتے ہیں۔اور جب ان سے پوچھا جائے کہ کسقدر تبلیغ کرتے ہو۔تو کہتے ہیں۔مولوی کچھ نہیں کرتے ان سے میں پوچھتا ہوں۔قرآن نے صرف مولویوں کو تبلیغ کرنے کا کہاں ذمہ دار قرار دیا ہے قرآن نے تو ہر ایک مومین کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔مولوی بیچارے جو تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔تعریف کے مستحق ہیں نہ کہ طعن و تشنیع کے کہ سارا بار ان پر ڈال کر کھا جاتے۔وہ کچھ نہیں کرتے۔اس کی مثال الیسی ہی ہے کہتے ہیں۔دوست شخص تھے جو راستہ پر پڑے رہتے تھے۔ایک دفعہ جب انکے پاس سے ایک آدمی گذرا۔تو ایک نے اُسے آواز دیکر بلایا۔جب وہ پاس آیا تو اسے کہا کہ یہ بیر اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔اس پر اسے غصہ آیا کہ خواہ مخواہ اس نے بلا کر میرا حرج کیا ہے۔اور وہ گالیاں دینے لگا۔دوسرا جو پاس پڑا تھا اُس نے کہا بھتی یہ بڑا سست آدمی ہے کچھ کرتا ہی نہیں ساری رات گنتا میرا منہ چاہتا رہا ہے اُس نے ہشت تک نہیں کی وہ بول تو پڑا۔مگر یہ خود گتے کو ہٹانے کے لیے بھی نہ بولا۔اور الٹا اس پڑھن کرنے لگا۔آجکل عام لوگ مولویوں کو بہت بڑا بھلا کہتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کرتے ، حالانکہ و کبھی نہ بھی وحفظ کر دیتے ہیں۔اس پر بھی ان کو بُرا کہا جاتا ہے۔مگر یہ جو دین کا نام تک نہیں لیتے۔یہ اچھے ہو گئے اگر خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا کہ اسے مولویو ! دین کی خدمت اور اشاعت کرنا صرف تمہارا ہی فرض ہے تو اس وقت جس قدر چاہتے ان کو بُرا بھلا کہ لیتے۔کہ وہ کچھ نہیں کرتے مگر جب ایسا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک مومن کا فرض رکھا ہے کہ وہ دین کو پھیلاتے تو خواہ مخواہ مولویوں کے سر ہونا