خطبات محمود (جلد 6) — Page 354
۳۵۴ لڑتے ہیں ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔اگر بچہ ہوشیار ہوتا ہے، تو اس کی ظاہری پرورش کو چھوڑ دیتے ہیں۔اور اس کا رزق بند کر دیتے ہیں۔مگر خدا ناراض ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں رزق بھی تنگ کر دیتا ہے۔لیکن خُدا کا سورج اس کو روشنی دیتا۔مینہ اس پر برستا ہے۔باوجود بے تعلق اور ناراضگی کے محبت کرتا ہے۔باوجود عذاب دینے کے رحم کرتا ہے۔وہ بے تعلق ہوتے ہیں۔مگر خدا کے تعلق کا ایک بار یک رشته قائم رہتا ہے۔اگر چہ اس کی صورت بدل جاتی ہے۔خدا دوزخ میں بھی ڈالتا ہے ، لیکن اس کے متعلق بھی آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا۔کہ ہوا جہنم کے دروازے کھٹ کھٹاتے گی۔اور وہاں کوئی نہ ہوگا۔تو ده رشتہ ایسا ہوتا ہے۔کہ اس کو آگ بھی نہیں جلاتی سیم کو جلا دیتی ہے۔کایا پلٹ دیتی ہے۔مگر وہ آگ خدا اور بندے کے تعلق کو نہیں کاٹ سکتی۔وہ آگ میں سے بھی سلامت نکلتا ہے۔پس خدا کا بندے سے شدید تعلق ہوتا ہے۔دنیا وی رشتوں میں بھی محبت ہوتی ہے۔بھائی بھائی سے محبت کرتا ہے۔پھر شہری شہریوں کی محبت ہوتی ہے۔ایک ملک کے لوگوں کی آپس میں محبت ہوتی ہے۔اگر وقت پڑے تو ہندوستانی مل جاتے ہیں۔چینی مل جاتے ہیں۔عرب عرب مل جاتے ہیں۔پٹھان پٹھان مل جاتے ہیں۔ایرانی ایرانی مل جاتے ہیں۔خواہ ان میں پہلے کتنا ہی فساد ہو مگر جب غیر آتا ہے تو غیریت دُور ہو جاتی ہے۔اسی طرح ایک ماں باپ کی اولاد میں بھی محبت ہوتی ہے۔اور وہ ایک وقت پڑنے پر اپنا رنگ دکھاتی ہے، لیکن ایک تعلق ان تعلقات سے بھی بڑا تعلق ہوتا ہے۔اور وہ خدا اور بندے کا تعلق ہوتا ہے۔جو دوزخ میں بھی منقطع نہیں ہوتا۔ایک ماں باپ کی اولاد میں تعلی محبت ہوتا ہے مگر اس کا ظہور اسی وقت ہوتا ہے۔جب علم ہو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پہلے خود مارتے ہیں اور علم ہونے پر کہ یہ بھائی تھا یا اور عزیز تھا۔روتے ہیں۔میں نے کسی معتبر تاریخ میں تونہیں پڑھا کہ ایک وقت میں روسی مسلمانوں کو کوئی علم نہ تھا کہ ان کے سوا اور بھی مسلمان ہیں۔ایک دفعہ روس اور روم میں جنگ ہوئی۔روسی مسلمان روسی فوجوں میں بڑے جوش سے بھرتی ہوئے۔اور روم والوں سے لڑنے کے لیے آئے۔جب رومی قیدی ان کے قبضہ میں گئے اور نماز کا وقت آیا اور انہوں نے اذانیں کہیں۔تب ان کو معلوم ہوا کہ یہ سلمان ہیں۔وہ آپس میں گلے ملے۔اور اپنی غلطی پر پشیمان ہوئے۔اور خوب روتے۔یہ ان سے غلطی کیوں ہوئی۔اس لیے کہ وہ اور۔اس تعلق کو بھول گئے تھے جو اسلام کے نام میں شامل ہونے کی وجہ سے ان میں پیدا ہوگیا تھا۔یہ اصل تو حضرت مسیح موعود نے آکر قائم کیا ہے کہ مسلمان جس حکومت کے ماتحت رہیں۔ان کا فرض