خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 353

۳۵۳ 66 رب العالمین کے بندے بنو د فرموده ۱۲ ار دسمبر ۱۹۱۹مه حضور نے تشہیر و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ:- اسلام کا خدا یعنی وہ خدا جس کی طرف اسلام بکاتا ہے۔یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی اس ذات کی تعریف جو ہمیشہ سے چلی آتی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔اور وہ ذات جو پہلوں کی خالق اور مالک تھی اور موجودہ کی خالق اور مالک و محافظ ونگران ہے۔اس کی جو تعریف اسلام نے کی ہے۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کسی ایک کا خدا نہیں۔بلکہ جس قدر مخلوقات ہے۔وہ ان سب کا خدا ہے وه خدا قبیلوں ہی کا خدا نہیں۔وہ ملکوں ہی کا خدا نہیں۔وہ شہروں ہی کا خدا نہیں۔وہ نسلوں ہی کا خدا نہیں۔وہ کسی خاص تمدن و تہذیب سے تعلق رکھنے والا خدا نہیں۔بلکہ ہر چیز جو موجود ہے۔وہ اس کا خدا ہے۔وہ ہندوؤں کا خدا ہے۔وہ یہودیوں کا خدا ہے۔وہ عیسائیوں کا خدا ہے وہ زرتشتیوں کا خدا ہے۔وہ نہیں طرح مسلمانوں کا خدا ہے۔ان کا محافظ و نگہبان ہے۔اسی طرح وہ عیسائیوں کا محافظ و نگہبان ہے۔حتی کہ دہریوں کا بھی محافظ و نگہبان ہے۔ان کی پرورش کرتا ہے۔کیونکہ وہ سب اس کی مخلوق ہیں۔یہودی بھی اس کی مخلوق ہیں۔ہندو بھی اس کی مخلوق ہیں۔عیسائی بھی مخلوق ہیں۔اگر وہ انکار کریں تو علیحدہ بات ہے۔مگر بہر حال وہ اسی کے ہیں۔بندے تعلق کو بھلاتے ہیں جیگر وہ نہیں بھلاتا۔وہ اس تعلق کو نظر اندازہ نہیں کرتا۔اس کا تعلق اپنی مخلوق سے حقیقی تعلق ہے۔ماں باپ بیٹے سے ناراض ہوتے ہیں۔ان کا تعلق پیدائش کا ذریعہ ہے، لیکن وہ اس جنگی میں بھی اس تعلق کو نہیں بھلاتے خواہ کتنی ہی نارانگی ہو تب وہ تعلق فراموش نہیں ہوتا۔وہ تعلق کبھی ایسا باریک ہوتا ہے۔کہ نظر بھی نہیں آتا، مگر وہ ہوتا ضرور ہے اور وہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔مگر خدا کا تعلق مال باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔وہ ناراض بھی ہوتا ہے۔وہ سزا بھی دیتا ہے۔مگر بے تعلقی نہیں کرتا۔عذاب نازل کرتا ہے۔مگر باوجود اس کے بندے اور خدا میں ایک مخفی تعلق رہتا ہے۔ماں باپ