خطبات محمود (جلد 6) — Page 355
۳۵۵ ہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے دوسرے مسلمانوں سے جو اس حکومت کے خلاف ہوں لڑیں۔پس وہ لوگ اسکو ایک غلطی خیال کرتے تھے۔کہ دو سلطنتوں کے رہنے والے مسلمان اپنی اپنی حکومتوں کی طرف سے ایک دوسرے سے لڑیں پیس لوگ نادانستہ طور پر اپنے عزیزوں کو دکھ پہنچا دیتے ہیں لیکن واقفیت کی حالت میں شاخ کے سوا انسان اس کو جس پر اپنے" کا لفظ بولا جائے۔تکلیف نہیں پہنچاتا۔یہ کیوں ؟ اسی لیے کہ یہ ایک فطری بات ہوتی ہے۔اور اس تعلق کی وجہ سے لوگ آپس میں نہیں لڑتے لیکن ایک خدا کے بندے ہو کر آپس میں لڑتے ہیں۔اور اس کو بھول جاتے ہیں۔پہلے زمانہ میں یہ بات اکثر ہوتی تھی۔کہ لوگ بیرونی ممالک میں جاتے۔اور اپنے اصلی نام و نمود کو چھپاتے اور وہاں شادیاں کرتے جن سے اولاد بھی پیدا ہوتی پس وہ لوگ اپنے وطن میں آجاتے اور ان کی وہ اولاد جو دن میں ہوتی۔بسا اوقات ایسا ہوتا کہ انکی اور ان کے غیر ملکی بھائیوں کی لڑائی ہو جاتی ایسی صورت میں اگر دونوں اپنے باپ کا نام بھی ہیں، تو دونوں بے خبر رہیں گے، لیکن خدا تعالیٰ تو جانتا ہے کہ اس کے تمام بندے اسی کے بندے ہیں جس طرح مخلوق کا بعض تعلقات کی وجہ سے لڑنا ٹھیک نہیں ہوتا۔اسی طرح اس خاص تعلق کا جو ایک خالق کی مخلوق ہونے کی صورت میں سب بندوں میں ہے ہونا چاہیئے۔خصوصیات عمومیات پر غالب آجاتی ہیں۔ایک شہری شہری کی مدد کرے گا۔مگر محلہ والے کے مقابلہ میں نہیں۔اسی طرح ایک محلہ والے کی مدد کی جائیگی۔مگر بیٹے یا بھائی کے مقابلہ میں نہیں۔اسی طرح خالقیت کا تعلق عام ہے اور ایک اور تعلق ہے۔جو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔وہ الوہیت کا تعلق ہے اور رحیمیت کا تعلق ہے۔بلحاظ ایک اللہ کی پرستش کرنے کے۔اور بلحاظ صفتِ رحیمیت کے کہ جس کی ماتحت ایک خاص شریعت ملتی۔اور اس پر عمل کیا جائے۔ایک خالق کے بندے ایک اللہ کے ماہد اور اور ایک رسیم کی شریعت کے متبع اگر یہ آپس میں ہمدردی نہ کریں۔تو بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ - مَالِكِ يوم الدين - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِینَ۔اس میں وہ اتحاد بیان کیا ہے۔جو انسانوں میں ہونا چاہیئے۔پہلے رب العالمین سے شروع ہوا کہ سب کا خالق اور پرورش کنندہ ایک رب ہے۔پھر اتحاد اس سے ترقی کرتا ہے کہ سب ایک ایسی ہستی کے بندے ہیں۔جو بغیر محنت کے انعام کرتی ہے۔پھر اس سے بڑھتے ہیں۔تو رحیمیت کے ماتحت آتے ہیں۔اور ایک شریعت کے پابند ہو جاتے ہیں۔پھر مالک یوم الدین پر آتے ہیں۔کہ خدا یا ہمارا انجام بھی تیر