خطبات محمود (جلد 6) — Page 25
اور ایقان حاصل کرنے کی قوت رکھی گئی ہے۔کیونکہ اسی لیے خُدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔پس اگر خواہش اور کوشش کے باوجود نتیجہ نہیں نکلتا، تو یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ اس کے لیے وہ ذرائع استعمال نہیں کئے گئے جو صحیح ہیں اور جن کا یہ حال ہو ان کو یہ سمجھنا چاہتے کہ ان کی کوششیں ضائع اور ان محنتیں اکارت گئیں کیونکہ انہوں نے ان طریق پر عمل نہیں گیا۔جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔ایمان اور ایقان کے حاصل کرنے کے طریق دو قسم کے ہوتے ہیں۔مثلاً علم پڑھنے میں ظاہری سامان تو یہ ہیں کہ انسان مدرسہ جاتا رہے۔کتا ہیں اس کے پاس ہوں۔یہ تو اس کے اختیار میں ہے لیکن یہ اختیار میں نہیں کہ ہر ایک وہ بات جو اُسے بتائی جاتے۔وہ اس کی سمجھ میں بھی آجائے۔یہ مدرسہ جانے کا نتیجہ تو ہے، لیکن اس کے اختیار کی بات نہیں ہے۔اسی طرح حصول ایمان کے لیے دو قسم کی باتیں ہیں۔ایک وہ جن پر انسان کو اختیار ہے اور جن کے لیے وہ اپنے نفس کو مجبور کر سکتا ہے اور دوسری وہ جن پر اسے کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی نفس کو ان کے لیے مجبور کر سکتا ہے۔ہاں وہ پہلی قسم کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔تو گویا یوں کہنا چاہیئے کہ حصول ایمان کے لیے وہ ذرائع ہیں جن میں سے ایک کے لیے تو انسان بلا واسطہ مجبور ہے۔اور دوسرے کے لیے بالواسطہ پس ایمان کے لیے عرفان کی ضرورت ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص بلا واسطہ نفس پر زور دیکر پیدا کرلے ، بلکہ یہ ان ظاہری اسباب پر عمل کرنے کا نتیجہ ہو گا جو انسان کے اختیار میں مہیں یعنی وہ کام جن کے کرنے کا اُسے حکم دیا گیا ہے۔ان کوعمل میں لاتے۔اور جن سے روکا گیا ہے۔ان سے باز رہے۔اگر وہ ایسا کرے گا تو اس صورت میں لازمی نتیجہ عرفان پیدا ہوگا اور اگر ایسا نہیں کریگا۔تو اس کے بغیر امان نصیب نہیں ہو سکے گا۔تو عرفان پیدا کرنے کا انسان کو حکم ہے مگر اس کے لیے وہ اپنے نفس کو مجبور نہیں کر سکتا۔ہاں جن اسباب سے وہ پیدا ہوتا ہے۔ان کے لیے مجبور کر سکتا ہے۔کئی لوگ ان اسباب کو کام میں لائے بغیر عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ناکام رہتے ہیں۔بعض صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں خدا سے محبت ہے۔اس لیے عرفان حاصل ہو جانا چلیئے حالانکہ محض محبت کا اقرار کرنے سے عرفان حاصل نہیں ہوسکتا۔بلکہ محبت کے ظہور کی بھی ضرورت ہے۔تو بعض لوگ اس لیے کامیاب نہیں ہوتے کہ غلط طریق اختیار کرتے ہیں اور صحیح کو چھوڑ دیتے ہیں اور بعض اس لیے کہ تمام طریقوں پر عمل نہیں کرتے۔بعض پر کرتے ہیں۔اس لیے ان کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔جیسے ایک شخص مکان تعمیر کرنے کے لیے دو دیواروں کو تو