خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 24

اس وقت میرا اس لمبی تمہید کے بیان کرنے سے ایک خاص منشاء ہے۔اور وہ یہ کہ ہم لوگ دعوئی کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ اسلام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم لاتے۔اور ہم خواہش رکھتے ہیں کہ اس ایمان کو حاصل کریں۔جو حقیقی ایمان ہے۔یہ ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہے اور ہر ایک اس کے لیے مقدور بھر محنت اور کوشش بھی کرتا ہے۔مگر میں نے بتایا ہے کہ کوئی کام صرف محنت اور کوشش سے نہیں ہوا کرتا۔بلکہ اس کا نتیجہ حسب منشاء اسی وقت نکل سکتا ہے۔جبکہ اس کے لیے صحیح ذرائع سے محنت کی جائے۔اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو محنت و مشقت خواہ کتنی برداشت کر لی جائے۔کچھ فائدہ اور نفع نہیں ہو سکتا۔پس آپ لوگوں کا جہاں یہ خیال ہے کہ اسلام اور ایمان کے لیے خواہ کوئی قربانی کرنی پڑے اس سے دریغ نہیں ہے۔اور خدا کے لیے ہر ایک محجوب اور مرغوب چیز کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو۔وہاں اس چھوڑنے کا عمل ان ذرائع سے ہونا چاہیتے جو خدا نے مقر رکھتے ہیں۔بہت لوگوں کو دیکھا گیا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ خدا سے انہیں ایسا مضبوط تعلق ہو جاتے کہ جسے کوئی چیز نہ کاٹ سکے۔اور انکے جسم کے ذرے ذرے میں خدا کی محبت اور الفت بھری ہوئی ہو، لیکن باوجود اس خواہش کے کہ بہت ہیں جو بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں مگر وہ مر عامال نہیں کر سکتے۔ایسے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ ان کی کوشش اور سعی اس طریق پر نہیں ہو رہی کہ کامیابی حاصل ہو سکے۔کیونکہ اللہ تعالے ظالم نہیں۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک انسان کو اس سے تعلق را کرنے کی سچی خواہش بھی ہو اور وہ صحیح ذرائع سے اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہو مگر کامیاب نہ ہو۔بعض باتوں میں ایسا ہوتا ہے۔جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے لیے خدا نے سب کو پیدا نہیں کیا ہوتا۔مثلاً ایک شخص پہلوان ہے۔اس کا جسم خوب مضبوط اور طاقتور ہے۔اور ایک اور ہے جس کے جسم کی بناوٹ کمزور ہے۔اب یہ خواہ کتنی ورزشیں کرے۔خوراکیں کھاتے جسم کے فربہ ہونے کے قواعد کی پابندی کرے۔اس سے کچھ تو اس کا جسم مضبوط ہو جائے گا۔مگر یہ نہیں ہوگا کہ پہلوان ہو جاتے کیونکہ سب انسان پہلوان بننے کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ہاں سب انسان ایماندار بننے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو ایماندار بننے کی خواہش بھی ہو۔اور وہ اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہو اور وہ کوشش صحیح طور پر بھی ہو دیگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔اگر ایسا ہو تو پھر خدا ظالم ٹھہرتا ہے۔کیونکہ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانوں میں عرفان حاصل کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے، لیکن ایمان کے متعلق یہ بات نہیں کہی جاسکتی۔تمام انسان خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں۔کوئی زبان بولنے والے ہوں کیسی مذہب کے پابند ہوں۔ان میں ایمان